0

ٹی ٹی پی کی جانب سے ملک میں حملوں کی ذمے داری قبول کرنا خطرناک ہے، رانا ثناء اللہ

 اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے ملک میں حملوں کی ذمے داری قبول کرنا خطرناک ہے۔ہر طرح کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اگر کسی آپریشن کی ضرورت ہوئی تو پھر اسے بلا تاخیر کیا جائیگا، عمران خان کی جانب سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان غیر آئینی اور جمہوری نظام کی توہین ہے، پی ٹی آئی نے استعفوں کا  فیصلہ کرلیا ہے تو 20 دسمبر تک انتظارکیوں؟،ہم بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے،  پی ٹی آئی اسمبلیوں کی تحلیل سے پہلے اپنے دیئے گئے استعفوں کی تصدیق کے لئے سپیکر کے سامنے پیش ہوں،، اگر عام انتخابات کی تاریخ تک ضمنی انتخابات ملتوی ہوسکتے ہیں تو ملتوی ہوجائیں گے اور اگرالیکشن ہونے ہیں تو دونوں اسمبلیوں کے الیکشن 90دن میں ہو جائیں گے اورہم ان الیکشنز میں جانے کے لئے پوری طرح تیار ہیں، کوئی مت سمجھے کہ ہم الیکشن سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں یا الیکشن سے ہم خوفزداہ ہیں، کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے،گورنر راج یا تحریک عدم اعتماد یہ سب آئینی طریقے ہیں اوران میں سے ایک یا ایک سے زائد بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ بطور صدر (ن)لیگ پنجاب میں کہہ سکتا ہے میاں نوازشریف ہمیں الیکشن مہم کے لئے میسر ہوں گے اور ہم بھر پور الیکشن مہم چلائیں گے اور یہ اِن کی بھول ہے کہ یہ دوبارہ جیت کے آجائیں گے، اگر پنجاب اسمبلی کے انتخابات ہوتے ہیں تو (ن)لیگ اکثریت حاصل کرے گی۔ ان خیالات کااظہار رانا ثناء اللہ خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔رانا ثناء اللہ خان کا کاکہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک کی سکیورٹی کی صورتحال سے متعلق اجلاس منعقد کیا گیا، اجلاس میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے شرکت نہیں کی، انہیں ملک کی امن و امان کی صورتحال سے متعلق ہونے والے اجلاس میں آنا چاہیے تھا انہوں نے کہاکہ  بلوچستان میں دہشت گردی کا جو واقعہ ہوا ہے اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ہیں، ٹی ٹی پی کی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول کر بہت تشویشناک بھی ہے اورقابل مذمت بھی ہے اوراس میں ہمارے ہمسایہ برادر ملک افغانستان جسے پاکستان کی طرف سے ہر قسم کی سہولت او رمدد میسر ہے،ان کے لئے بھی یہ بات لمہ فکریہ اور پریشانی کا باعث ہونی چاہیئے کہ ٹی ٹی پی پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ناصرف ملوث پائی جائے بلکہ ذمہ داری بھی قبول کرے تویہ اس خطہ کے امن کیلے انتہائی خطرناک چیز ہے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے معاملات بھی پوری طرح وفاقی حکومت کی نظر میں ہیں اور ان کے اوراوپر ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مسلح افواج پوری طرح سے اہل بھی ہیں، ان پوزیشن بھی ہیں کہ ہرقسم کی صورتحال کا ناصرف سامنا کیا جاسکتا ہے بلکہ اسے کنٹرول بھی کیا جاسکتا ہے، کیپچر کیا جاسکتا ہے، اس میں عوام کے لئے کسی قسم کی پریشانی کی بات نہیں ہے، ہم تمام واقعات پر نظررکھے ہوئے ہیں اورجہاں تک صوبائی حکومتوں کادائرہ اختیار ہے، اس میں رہ کر، ان کی مدد کر کے، ان چیزوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کو مؤثر بنایا جائے گا اوراگر کوئی بات آگے بڑھی تو پھر جو بھی آپریشن ضروری ہوا اسے وقت پر کیا جائے گااوراس میں قطعاً کوئی دیر نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی حوالہ سے جو عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کو روکنے کی بھی کوشش کی جائے گی لیکن اس کے نتیجہ میں جو بھی ایکٹ سامنے آئے گااُس کا آئین اورقانون کے مطابق حل کیا جائے گااوراِِن کی بلیک میلنگ کو کسی طور پر قبول نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا دوٹوک مؤقف ہے کہ جلسوں یااحتجاج میں ناکامی کے بعد جلسوں میں تقاریر کرنے سے تواسمبلیاں نہیں توڑی جاسکتیں،جلسوں میں فیصلے کر کے اور تقریریں کر کے اسمبلیوں کو توڑنا غیر جمہوری تو ہے ہی لیکن غیر آئینی بھی ہے، آئین آپ کو اس قسم کی عیاشی کی اجازت نہیں دیتا کیوں کہ الیکشن مفت میں تو نہیں ہو جاتے وہ بہت برا خرچہ اور قومی خزانے پر بوجھ ہوتا ہے۔ ہم بھر پورکوشش کریں گے کہ اسمبلیوں کو توڑنے کے اس غیر جمہوری عمل کاحصہ نہ بنیں اوران کو روکنے کے لئے آئین میں ہمیں جو بھی طریقہ کار میسر ہے ہم اس کے مطابق ہی کوشش کریں گے اورآئین کے باہر نہیں جائیں گے، اگر اس کے بعد بھی الیکشن کی ہی صورتحال سامنے آتی ہے تو پھر ان دواسمبلیوں میں ہی الیکشن ہوں گے، عام انتخابات اپنے وقت پر ہی ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے جولوگ امن چاہتے ہیں ان کو امن کا راستہ دیا جاناچاہیئے، جو پارلیمنٹ میں بحث ہوئی تھی اور عسکری قیادت نے جو بریفنگ دی تھی ان میٹینگز کا بھی یہی فیصلہ تھا اوراسی کے اوپر عمل ہورہا ہے۔ آپریشنز روزانہ ہو رہے ہیں اور ہماری مسلح افواج کے افسر اور جوان اپنی جانیں بھی پیش کررہے ہیں، یہ سارا کچھ امن کے لئے ہے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کے معاملہ پر حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے کمیشن پر ارشد شریف کے اہلخانہ نے عدم اعتماد کااظہار کیا تھااس لئے وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھا ہے کہ وہ کمیشن بنادیں اورہمیں امید ہے کہ وہ اس میں جتنی جلد ممکن ہو سکے گا کمیشن کا قیام عمل میں لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے افغانستان جا کر واپس پاکستان میں مسلح کاروائیوں میں ملوث افراد کی تعداد پانچ سے سات ہزار بتائی جاتی ہے جبکہ ان کے اہلخانہ اوربچوں کی تعداد25سے30ہزار کے قریب ہے، عسکری قیادت نے واضح مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان لوگوں کا توکوئی قصور نہیں اگر وہ واپس آنا چاہتے ہیں توانہیں واپس آنے دیا جائے اور جو لوگ مسلح ہیں اگر وہ ہتھیاررکھ کر آئین اور قانون کے تابع اوراپنے آپ کو ملک کے قانون کے حوالہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بھی اجازت ہونی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں اور کچھ لوگ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے پوری دنیا کے ساتھ افغان سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ ایک سوال پر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف میں کس سے مذاکرات کریں، عمران خان کہتے ہیں کہ اِن سے مذاکرات کرنے سے بہتر ہے میں مرجاؤں، عمران خان مذاکرات پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ عام انتخابات کے لئے عمران خان نے دیگر جماعتوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کئے۔ سیلاب کی وجہ سے آئندہ چھ ماہ کے دوران صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان میں الیکشن ممکن نہیں تو پھر کس طرح ملک میں عام انتخابات ہوں گے۔ اگر پنجاب اور کے پی اسمبلیاں توٹتی ہیں تو ہم انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے اور اس مرتبہ عمران خان کا گھمنڈ دور ہو جائے گا۔ اعظم سواتی کی گرفتاری انہوں نے جو نئی گفتگو کی ہے اس کے پیش نظر ہوئی ہے، جو انہوں نے گفتگو کی ہے کیا اتنے سینئر سینیٹر کو یہ بات زیب دیتی ہے۔ جو انہوں نے 29نومبر کو چینج آف کمانڈ کی تقریب کے بعد باتیں کی ہیں کیا وہ کسی انسان کو زیب دیتی ہیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں