0

امریکہ اور روس کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ

ماسکو(مانند نیوز ڈیسک)ماسکو نے امریکی باسکٹ بال اسٹار اور اولمپک گولڈ میڈلسٹ برٹنی گرائنر کو امریکہ میں قید روس کے سابق اسلحہ ڈیلر وکٹر بوٹ کے بدلے میں رہا کر دیا۔قیدیوں کا یہ تبادلہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ گزشتہ آٹھ ماہ میں دونوں ملکوں کے درمیان یہ قیدیوں کے تبادلے کا دوسرا موقع ہے۔ قیدیوں کا یہ تبادلہ گذشتہ روز ابوظبی ہوائی اڈے پر ہوا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے گرائنر کی رہائی کی اطلاع ایک ٹویٹ کے ذریعے دیتے ہوئے بتایا، “وہ محفوظ ہیں، وہ طیارے میں ہیں اور اپنے وطن لوٹ رہی ہیں۔” انہوں نے ٹوئٹ کے ساتھ گرائنر کے شوہر چارلی گرائنر کی ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے۔امریکی اراکین کانگریس، کھلاڑیوں اور دیگر افراد نے گرائنر کی رہائی پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔روسی وزارت خارجہ رنے بھی قیدیوں کے اس تبادلے کی تصدیق کی ہے۔ اس نے ایک بیان میں کہا کہ بوٹ اپنے وطن پہنچ گئے ہیں۔روسی میڈیا کی جانب سے جاری ویڈیوز میں گرائنر کو ایک روسی طیارے سے ابو ظہبی ہوائی اڈے پر اترتے اور امریکی حکام کو ان کا استقبال کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ جب کہ روسی حکام، ‘موت کا سوداگر’ کے  نام سے مشہور بوٹ کو گلے لگاتے نظر آرہے ہیں۔بعد میں روسی ٹیلی ویزن پر ایک ویڈیو نشر کی گئی جس میں بوٹ کو ماسکو میں ایک طیارے سے اترتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کی والدہ اور اہلیہ بھی اس موقع پر موجود تھیں۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ روس اور امریکہ میں قیدیوں کا تبادلہ اماراتی صدر محمد بن زاید النہیان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی کوششوں سے ہوئی۔ تاہم وائٹ ہاوس نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رہائی واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان بات چیت کے نتیجے میں عمل میں آئی۔سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کی وزارت خارجہ کی جانب سے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کی ثالثی کی کوششوں کی کامیابی ان کی امریکہ اور روسی فیڈریشن کے ساتھ باہمی اور ٹھوس دوستی کی عکاسی کرتی ہے۔ بیان میں فریقین کے درمیان بات چیت کے فروغ میں دونوں برادر ممالک کی قیادت کے اہم کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔بیان کے مطابق قیدیوں کا یہ تبادلہ ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ”ماہرین” کی موجودگی میں ہوا۔واشنگٹن نے روس امریکہ قیدی تبادلے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی ثالثی کی تردید کی ہے۔وائٹ ہاوس کی پریس سکریٹری کیرن ژاں  کا کہنا تھا کہ امریکی باسکٹ بال کھلاڑی برٹنی گرائنر کی رہائی صرف روس اور امریکہ میں بات چیت سے ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کی بات چیت میں صرف امریکہ اور روس شامل تھے، قیدیوں کے تبادلے کی بات چیت میں کسی کی ثالثی شامل نہیں تھی۔باسکٹ بال اسٹار32 سالہ برٹنی گرائنردو مرتبہ کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ ہیں۔ انہیں 17 فروری کو ماسکو کے ایک ہوائی اڈے پر اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان کے سامان سے بھنگ کا تیل برآمد ہوا تھا، جو روس میں غیر قانونی ہے۔برٹنی نے جولائی میں جرم کا اعتراف کرلیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے پیچھے کوئی مجرمانہ نیت نہیں تھی بلکہ جلدی میں پیکنگ کے دوران یہ تیل ان کے سامان میں بند ہو کر ان کے ساتھ آگیا تھا۔روسی عدالت نے چار اگست کو برٹنی کو نو برس قید کی سزا سنائی تھی۔ بائیڈن انتظامیہ نے ان کی گرفتاری کو “غلط” قرار دیا تھا اور برٹنی کی رہائی کے لیے ان پر شدید دباو تھا۔وکٹر باٹ جنہیں ماضی میں ‘موت کے سوداگر کا خطاب دیا گیا تھا، سابق سوویت فوج کے لیفٹننٹ کرنل رہے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف نے ماضی میں انہیں دنیا کے سب سے بڑے ہتھیاروں کے ڈیلروں میں سے ایک قرار دیا تھا۔ انہیں سن 2008 میں تھائی لینڈ میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے دو برس بعد امریکہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔وکٹر باٹ، جن کی زندگی پر ایک ہالی وڈ فلم بھی بن چکی ہے کروڑوں ڈالر کے ہتھیار بیچنے کی سازش میں امریکہ میں 25 برس کی قید کاٹ رہے تھے۔قیدیوں کے اس تبادلے میں ایک اور امریکی شہری پال وہلن شامل نہیں ہیں جو جاسوسی کے الزام میں چار برس سے روس میں قید میں ہیں۔ پال کو سن 2020 میں 16 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔امریکہ کے بعض ریپبلیکن اراکین کانگریس نے بوٹ کے جرائم اور وہلن کو رہا نہ کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے قیدیوں کے تبادلے کی نکتہ چینی کی ہے۔۔۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں