0

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
ہم سے خوش فہموں کا یارو یہ خیال اچھا ہے
نہ حرام اچھا ہے یارو نہ حلال اچھا ہے
کھا کے پچ جائے جو ہم کو وہی مال اچھا ہے
صرف نعروں سے غریبی تو نہیں مٹ سکتی
ملک سے سارے غریبوں کو نکال اچھا ہے
ساتھ بیگم کے ملا کرتے ہیں دس بیس ہزار
مفت کے مالوں میں سسرال کا مال اچھا ہے
نرس کو دیکھ کے آ جاتی ہے منہ پہ رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
جھڑکیاں سن کے ادھر ہم کو ادھر ڈانٹتے ہو
اپنی گھر والی کا عملے پہ وبال اچھا ہے
دام غلے کے ہوئے جاتے ہیں سر سے اونچے
اچھے لیڈر ہو غریبوں کا خیال اچھا ہے
تمکنت چال میں چہرے پہ متانت آئی
حسن اس شوخ کا مائل بہ زوال اچھا ہے
اپنے استاد کے شعروں کا تیا پانچہ کیا
اے رحیم آپ کے فن میں یہ کمال اچھا ہے
اسد اللہ خان غالب

Share and Enjoy !

Shares
کیٹاگری میں : نظم

اپنا تبصرہ بھیجیں