0

خدشات دور، حماس نے 13 اسرائیلی اور4تھائی شہری، اسرائیل نے 39 فلسطینی رہا کردیئے

غزہ(مانند نیوز ڈیسک) حماس نے قطر اور مصر کی کوششوں کے نتیجے میں خدشات دور ہونے کے بعد رات گئے13 اسرائیلیوں اور 4 تھائی شہریوں کو رہا کردیاجبکہ اسرائیل نے بھی بدلے میں 39 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے۔ رہائی پانے والے یرغمالیوں کو ہلال احمر کی مدد سے مصر روانہ کردیا گیا۔ یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق رکاوٹ کا خاتمہ قطر اور مصرکی کوششوں سے ممکن ہوا۔حماس کی جانب سے 17 یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل نے جنگ بندی ڈیل کے تحت 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کردیا۔فلسطینی قیدی مغربی کنارے کے علاقے بیتونیا پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، رہا ہونے والے فلسطینیوں میں 38 سال کی اسرا جعابیص بھی شامل ہیں انہیں 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا اور11سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اسرائیلی حکام کاکہنا ہے کہ اسرائیلی یرغمالی بذریعہ رفاح کراسنگ مصر سے اسرائیل پہنچ رہے ہیں۔یرغمالیوں کے بدلے قیدیوں کے تبادلے میں اس وقت گھنٹوں تاخیر ہوئی جب حماس نے اسرائیل پر معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا۔ قطری ترجمان کے مطابق رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں میں 33 بچے اور 6 خواتین شامل ہیں۔حماس اور اسرائیل کے درمیان عارضی جنگ بندی کے ثالث قطر کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کی راہ میں حائل رکاوٹیں قطر اور مصر کے دونوں فریقوں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے دور ہو ئی ہیں جبکہ حماس نے بھی رکاوٹیں دور ہو جانے سے متعلق تصدیق کر دی۔حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے “معاہدے کی تمام شرائط کو برقرار رکھنے” کے وعدے کے بعد یرغمالیوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔اس سے پہلے حماس نے یرغمالیوں کی رہائی روک دی تھی اور کہا تھا کہ اسرائیلی فوج نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں ایک سے زائد مقامات پر فائرنگ کی ہے اور دو فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔حماس کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت اسرائیل کو شمالی غزہ میں امدادی ٹرکوں کو رسائی دینی ہوگی اور رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں میں سینیئر قیدیوں کو بھی شامل کرنا ہوگا۔جواب میں اسرائیل نے حماس کو دھمکی تھی کہ نصف شب تک یرغمالیوں کو رہا کیا جائے، ورنہ حماس حملوں کیلئے تیار ہو جائے۔ اسرائیلی حکام نے شرائط کی کسی بھی خلاف ورزی کی تردید کی تھی۔

Share and Enjoy !

Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں