0

پختونخوا ادب فن وثقافت اور مٹتی ہوئی زبانوں کا قبرستا ن بنتا جارہا ہے کلچر جرنلسٹس فو رم

پشاور (نمائندہ مانند )کلچر جرنلسٹس فورم نے ثقافت وسیاحت جیسے ہم شعبے کو مکمل طورپر انظر انداز کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے قیام کو تین سال ہونے کے باوجود عملی اور قابل ذکر اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں.صوبے کی ثقافت کے شعبے کو مزید فعال بناکر مثبت ثقافتی سرگرمیوں سمیت سیاحت کے فروغ ٗصوبے کی منفرد اور شاندار ثقافت اور تمام بولی جانے والی زبانوں کی ترقی اور ترویج کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیںاور ثقافتی وسیاحتی ورثے واثاثےاور آثار قدیمہ کے تحفظ ٗبحالی اور فروغ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں.اس سلسلے میں کلچر جرنلسٹس فورم کا اجلاس فورم کے صدر احتشام طورو کی صدارت میں گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں فورم کے جنرل سیکرٹری روخان یوسفزئی نائب صدر امجد علی خادم ٗجائنٹ سیکرٹری عنایت الرحمان ٗفنانس سیکرٹری امجد ہادی یوسفزئی ٗپریس سیکرٹری سجاد خلیل ٗ محمد رضوان ٗسراج عارف ٗعزیز الرحمن بونیر ی اور دیگر نے شرکت کی اجلاس میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا مختلف ثقافتوں اور زبانوں کا حسین گلدستہ ہے جس میں پشتو زبان کے ساتھ ساتھ ہندکو، سرائیکی، گوجری، کوہستانی، کھواراور شینا زبان بولنے والے بھی بڑی تعداد میں بستے ہیں خیبر پختونخوا میں بولی جانیوالی تمام زبانوں ٗ انکی ثقافتوں ٗ انکے کھیل موسیقی ٗروایات ٗاقدار اور طورطریقوں کے تحفظ ٗبحالی اور فروغ کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں حکومتی سطح پر خیبر پختونخوا میں بولی جانیوالی تمام زبانوں اور ثقافتوں کی حوصلہ افزائی سے معاشرے میں پائی جانے والی احساس کمتری کو ختم کرنے میں مدد ملے گی اجلاس میں کہاگیا کہ کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے تین سال قائم ہونے کے باوجود فن وثقافت ٗادب اور سیاحت کے فروغ کے حوالے سے ٹھوس اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں اور ماضی کی طرح صرف کلینڈر ایونٹ پر اکتفا کیا جارہا ہے اتھارٹی میں ٹی سی کے پی کے سابق ملازمین اور نئے بھرتی ہونیوالے ملازمین میں جاری رسہ کشی کی وجہ سے اتھارٹی جس مقصد کیلئے بنائی گئی تھی اس کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے لہذا ارباب واختیار کو اس حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے اور اتھارٹی میں اہل افراد کو ذمہ دارایاں حوالے کرنی چاہیے تاکہ اتھارٹی حقیقی معنوں میں اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو اجلاس میںمطالبہ کیا گیا کہ کلچر پالیسی منظور ہونے کے باوجود اس کے رہنما اصولوں پر عمل نہیں کیا جارہا ہےاور پالیسی صرف کاغذوں کے حد تک محدود ہے سنسر شپ بورڈ اورکاپی رائٹ ایکٹ فوری نافذ کیا جائے‘ فن و ثقافت اور ادب سے وابستہ تمام افراد کی فلاح و بہبود کیلئے پہلے سے منظور شدہ انڈومنٹ فنڈ کو عملی جامہ پہنایا جائے ۔ سینئر گلوکاروں ‘ شعراء. ادیبوں‘ فنکاروں اور فن وثقافت سے وابستہ دیگر لیجنڈ ہنرمندو ں کے لئے مستقل بنیادوں پر وظائف کا سلسلہ شروع کیا جائے اجلاس میں مطالبہ کیاگیا کہ نشترہال کو اپنی اصل ثقافتی شکل میں بحال کرکے اسے فنکاروں کیلئے کھولا جائے اورنشترہال میں معیاری و تفریحی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے یہاں پر معیاری کمرشل شوز کی مکمل آزادی دیکر انکے کرایوں میں نمایاں کمی کی جائے اور صوبے کے تمام اضلاع میں نشترہال کے طرز پر آڈیٹوریم ا ور آرٹ گیلریز تعمیر کی جائیں تاکہ عوام کو سستی اور معیاری تفریح کی فراہمی میں آسانی ہو اجلاس میں کہاگیا کہ صوبے میں سینما گھروں کے انہدام کو روکنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے صوبے میں عوام نہ صرف سستی تفریح سے محروم ہو جائیں گے بلکہ صوبے کی ثقافت کو بھی نقصان پہنچے گا اس وقت صوبے میں ایک منظم سازش کے تحت ایک مافیا سینما گھروں کو منہدم کر رہاہے جس کی روک تھام بے حد ضروری ہے اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ فن‘ ثقافت‘ ادب اور تعلیم کے شعبے میں دیرینہ خدمات انجام دینے والے باصلاحیت اور مستحق فنکاروں کی پذیرائی کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے تاکہ دیگر لوگوں میں بھی ملک کے لئے کام کرنے کا جذبہ پیدا ہواجلاس میں کہاگیا کہ صدارتی ایوارڈ کیلئے باقاعدہ طورپر اہل افراد پر مشتمل ایک اعلی سطح کمیٹی قائم کی جائے جن میں تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی نمائندگی ہو تاکہ کسی بھی ہنرمند ٗادیب ٗشاعر ٗفنون لطیفہ سے وابستہ کسی بھی فرد کی حق تلفی نہ ہو کیونکہ جب بھی صدارتی ایوارڈ کی نامزدگی کی جاتی تو اس میں اہل افراد کو ہمیشہ نظر انداز کیاگیا ہے اور صرف سفارش اور تعلق کی بنیاد پر صدارتی ایوارڈ تقسیم کئے گئے

Share and Enjoy !

Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں