0

ملک بھر میں 10 ہزار ای روزگار مراکز کے قیام کے منصوبے کا آغاز کر دیا گیا،وزیر آئی ٹی

اسلام آباد(مانند نیوز)نگراں وزیر آئی ٹی ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ ملک بھر میں 10 ہزار ای روزگار مراکز کے قیام کے منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں 39 ای روزگار سینٹرز کے قیام کا افتتاح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم ترین منصوبہ نگراں وزیر آئی ٹی ڈاکٹر عمر سیف کی اس انقلابی سوچ کا نتیجہ ہے۔اس موقع پر نگراں وزیر آئی ٹی ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں 250 مراکز قائم کیے جائیں گے۔ جلد ہی ہم ملک بھر میں 10 ہزار مراکز کا ہدف پورا کرلیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ہنرمندوں کو صلاحیت بڑھاتے ہوئے آئی ٹی ایکسپورٹ 10 ارب ڈالرز تک لے جانا ہے۔ ملک میں اس وقت 15 لاکھ سے زائد افراد فری لانسنگ کر رہے ہیں۔ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ بیشتر فری لانسرز کے پاس مطلوبہ سہولیات، انٹرنیٹ، لیپ ٹاپ یا موزوں جگہ دستیاب نہیں۔ ایک مرکز میں 100 افراد کی گنجائش سے 10 ہزار مراکز میں 10 لاکھ فری لانسرز کو جگہ ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح آئی ٹی ایکسپورٹ 10 ارب ڈالرز سالانہ بڑھائی جاسکے گی۔ نگراں دور حکومت کے 4 ماہ کے دوران وزارت آئی ٹی کی کارکردگی شاندار رہی۔
ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے ہماری پالیسیوں اور منصوبوں کی بروقت منظوری میں اہم کردار ادا کیا۔ آج ہم آئی ٹی کمپنیوں کو 50 فیصد ڈالرز ان کے اکاؤنٹس میں رکھنے کی سہولت دینے کے قابل بنے۔
وزیر آئی ٹی کا مزید کہنا تھا کہ جامعات سے فارغ 2 لاکھ آئی ٹی گریجویٹس کو عالمی معیار کی تربیت دینے کا پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ فری لانسرز کیلئے ڈیجیٹل پیمنٹ گیٹ وے کا بڑا مسئلہ حل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یکم فروری سے پائلٹ پراجیکٹ کے تحت 10 ہزار اکاؤنٹ بنائے جائیں گے۔ فری لانسرز کے یہ اکاؤنٹ پے پال کے ذریعے اپنی رقوم یہاں اکاؤنٹ میں وصول کرسکیں گے۔
ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ پائلٹ منصوبے کی کامیابی کے بعد تھرڈ پارٹی ایگریمنٹ کے ذریعے رقوم وصولی بڑے پیمانے پر کی جاسکے گی۔ فائیو جی اسپیکٹرم کیلئے تمام رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اسپیکٹرم کی دستیابی یقینی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ آکشن ایڈوائزری کمیٹی کے احکامات پر کنسلٹنٹ کی تقرری، اگست تک اسپیکٹرم نیلامی ہوگی۔ ملک بھر میں مزید 2 لاکھ کلومیٹر آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کے منصوبے کا جلد آغاز کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ رائٹ آف وے پالیسی کا مکمل نفاذ، مختلف اداروں کے مابین تنازعات کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ ٹیلی کمیونیکیشن ٹریبونل کا قیام ہونے سے ٹیلی کام سیکٹر کا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان تخلیق کاروں کی مدد کیلئے 2 ارب روپے سے پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ کا اجراء کیا گیا۔ اسمارٹ فونز فار آل منصوبے کے تحت آسان اقساط پر موبائل فونز فراہمی کا اجراء کرنے جا رہے۔ موبائل فونز مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو سہولیات دینے کیلئے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فنڈ قائم کر رہے ہیں۔

Share and Enjoy !

Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں