0

ذوالفقار علی بھٹو کو فیئر ٹرائل نہیں ملا،سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے

اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کیس پر نظرثانی کے لئے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 186کے تحت اپریل 2011میں بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے قراردیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کیس میں فیئر ٹرائل نہیں ملا اورآئینی تقاضوں کو پورانہیں کیا گیا عدالت نے قراردیا ہے کہ نظرثانی خارج ہونے کے بعد ہمارے پاس فیصلے پر نظرثانی کااختیار نہیں۔ ہم تمام لوگوں کے ساتھ یکساں انصاف کرنے کے پابند ہیںجبکہ عدالت نے قراردیا ہے کہ اسلامی اصولوں کے حوالے سے کوئی معاونت نہیں کی گئی اس لئے اس سوال کا جواب نہیں دیا جارہا۔عدالت کی جانب سے مختصر رائے جاری کی گئی جبکہ تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس سید منصورعلی شاہ، جسٹس یحییٰ خان آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی اورجسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 9رکنی لارجر بینچ نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے صدارتی ریفرنس میں پوچھے گئے پانچ سوالوں کے جواب دیئے۔ عدالتی رائے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پڑھ کرسنائی۔ عدالتی کاروائی براہ راست دکھائی گئی۔ فیصلہ سنائے جانے کے وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، اٹارنی جنرل منصورعثمان عثمان اعوان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری عامر رحمان، میاں رضا ربانی اور فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر موجود تھے جبکہ سینیٹر شیری رحمان، قمر زمان کائرہ، فیصل کریم کنڈی، چوہدری منظور احمد، ندیم افضل چن، سید نیئر حسین بخاری اوردیگر پی پی رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تمام ججز کا متفقہ آرڈر ہے، سب متفق ہیں، ججز بلاتفریق فیصلہ کرتے ہیں،عدلیہ میں خود احتسابی ہونی چاہیے، عدلیہ ماضی کی غلطی کو تسلیم کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل ہو اور سپریم کورٹ ایپلٹ عدالت تھی اوریہ ٹرائل فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں ہوا۔سپریم کورٹ کی رائے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں صدر مملکت نے ریفرنس بھیجا، جسے بعد کی حکومتوں نے واپس نہیں لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل اور سپریم کورٹ میں اپیل میں بنیادی حقوق کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی کاروائی آئین کے آرٹیکل 4اور9میں دیئے گئے طریقہ کار کے خلاف تھی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے عدالت عظمی کی صدارتی ریفرنس پر رائے سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے دوسرا سوال بغیر رائے دیئے واپس بھیج دیا۔ دوسرے سوال میں قانونی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ سپریم کورٹ نے تیسرے اور پانچویں سوال کا جواب اکٹھا دیا۔ سپریم کورٹ شواہد کا دوبارہ جائزہ نہیں لے سکتی،آئین کے آرٹیکل 186کے تحت سپریم کورٹ فیصلہ کوکالعدم قرارنہیں دے سکتی۔ تفصیلی رائے میں شواہد کا جائزہ لینے کے لئے تفصیلات جاری کریں گے۔عدالت عظمیٰ نے اپنی رائے میں کہا کہ بھٹو کے خلاف چلایا گیا ٹرائل آئین کے مطابق نہیں تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔ ریفرنس میں چوتھا سوال پوچھا گیا کہ بھٹو کو دی گئی سزا اسلامی تعلیمات کے مطابق تھی؟ اس سوال پر ہماری معاونت ہی نہیں کی گئی۔ 9رکنی لارجر بینچ نے چوتھے سوال پر رائے نہیں دی۔ یہ معاملہ مفاد عامہ کا ہے۔ تفصیلی رائے بعد میں دی جائے گی۔ بلاول بھٹو زرداری، صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے سننے کے بعد کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہو گئے۔ فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر بلاول بھٹوزرداری کی روانگی کے موقع پر پی پی کارکنوں کی جانب سے نعرے بھی لگائے گئے۔واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس 5 سوالات پر مبنی تھا، صدارتی ریفرنس کا پہلا سوال یہ تھا کہ ذوالفقار بھٹو کے قتل کا ٹرائل آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق مطابق تھا؟دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا ذوالفقار بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پر سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس پر آرٹیکل 189 کے تحت لاگو ہوگا؟ اگر نہیں تو اس فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے؟تیسرا سوال یہ تھا کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانا منصفانہ فیصلہ تھا؟ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانے کا فیصلہ جانبدار نہیں تھا؟چوتھے سوال میں پوچھا گیا تھا کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سنائی جانے والی سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟جبکہ پانچواں سوال یہ تھا کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف دیے گئے ثبوت اور گواہان کے بیانات ان کو سزا سنانے کے لیے کافی تھے؟

Share and Enjoy !

Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں