0

کمشنر پشاور ڈویژن کاسپریم کورٹ کے احکامات جوتے کے نوک پر

پشاور (فیاض علی ) صوبائی حکومت اپنے سرکاری مراسلوں اور اجازت ناموں میں مجاز آتھارٹی کا عہدہ اور نام نہ ظاہر کرکے مسلسل توہین عدالت سمیت سپریم کورٹ کے واضح احکامات کوجوتے کے نوک پر رکھتے ہوئے آئین شکنی کے مرتکب ہو رہیں ہیں۔ کمشنر پشاور ڈویژن کے اجازت مانوں اور مراسلوں میں بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات کو دانستہ طور پر نظر انداز کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کے برعکس مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھتے ہوئے توہین عدالت کے مرتکب ہونے کا سلسلہ جاری رہنے کا ا نکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کمشنر پشاور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن سوشل میڈیاسے منظر عام پر آیا ہے جس میں 10مارچ کو کبوتر چوک پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے متوقع جلسے کے پُر امن انعقاد کے حوالے سے 5 رُکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔جاری شدہ مراسلہ میں مجاز اتھارٹی کے نام اور عہدے کا زکر ہی نہیں کیا گیا۔ مزید نوٹیفکیشن میں قائم 5 رُکنی کمیٹی میں اسسٹنٹ کمشنر (سٹی)،ایس پی (سیکیورٹی) اور ڈائریکٹر ویسٹ سٹی میٹرو پولیٹن پشاور کے عہدے تو درج لیکن نام ظاہر نہیں کیے گئے۔لیکن اس کے برعکس ڈائریکٹر پشاور ڈویلپمنٹ آتھارٹی میجر (ر) خالد اور ممبر قومی اسمبلی ارباب شیر علی کے نمائندے عرفان سلیم کے نام ظاہر کیے گئے ہیں۔سمجھ سے بالا تر ہے کہ کمشنر پشاور ڈویژن کے اس مراسلے میں جہاں سپریم کورٹ کے احکامات کی توہین کی گئی ہے تو دوسری جانب اسی مراسلے میں امتیازی سلوک رکھتے ہوئے چند سرکاری عہدیداروں کے نام افشاں نہ رکھنے کی کیا وجوہات تھی۔ اس ضمن میں جب اس مراسلے کے حوالے سے کمشنر پشاور کے سیکریٹری محمد عارف خان اور محکمہ کے ترجمان فیروز شاہ سے موقف لینے کی کوشش کی تو غیر سنجیدہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فروری 2022کے ایک حکم نامے کے مطابق جس میں تمام سرکاری وفاقی اور صوبائی اداروں بشمول قانونی، نیم سرکاری اور خودمختار اداروں پر لازم قرار دیا تھا کہ وہ فوری طور پر اس بات کو یقینی بنائے کہ جہاں بھی سرکاری دستاویزات میں “مجاز اتھارٹی”کے الفاظ استعمال کیے جائیں تو وہاں اتھارٹی کا عہدہ اور نام بھی درج کیا جائے۔اتھارٹی میں دیئے گئے اختیارات کو استعمال کرنے کے لیے قانونی طور پر غیر مجاز افراد کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ جس شخص کے پاس اختیار ہے وہ جوابدہ رہے۔

Share and Enjoy !

Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں