0

فون ٹیپ کرنے کا اختیار کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا، حافظ نعیم الرحمٰن

اسلام آباد (مانند نیوز ) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ فون ٹیپ کرنے کا اختیار دینا خلاف آئین ہے، یہ کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔لاہور میں لیسکو آفس کے باہر دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ فون ٹیپ کرنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، آئین کو پامال کرنے اور آئین کے خلاف اقدامات سے باز آئیں، فون ٹیپ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ہمیں خیرات کے اعلانات نہیں، حق چاہیے، تنخواہوں میں ٹیکس سلیب سسٹم کو مسترد کرتے ہیں، ہم ظالمانہ سلیب سسٹم کے خلاف ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ سلیب سسٹم ختم کرو، بجلی کی قیمت کم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ بجلی پر عائد مختلف ٹیکسز کسی صورت قابل قبول نہیں، سستی بجلی ہمارا بنیادی حق ہے، ٹیکس ختم کیے جائیں، ریلیف عوام کو براہ راست دیا جائے۔بیرسٹر گوہر کا بانی چیئرمین کے فون ٹیپنگ کی حمایت کے بیانات پر تبصرے سے گریز امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ کیپسٹی چارجز پر قوم وہ پیسے ادا کر رہی ہے جو بجلی بنتی نہیں، مراعات یافتہ طبقے کی گاڑیاں بھی آپ برداشت کریں، ان کی مفت بجلی، پاکستان کا غریب اور متوسط طبقے کا آدمی ادا کرتا ہے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں کو مسترد کرتے ہیں، اگر بجلی اتنی زیادہ ہے تو پھر لوڈشیڈنگ کیوں ہے، لائن لاسز بھی پاکستان کے عوام بھگتتے ہیں، ظالمانہ بجٹ کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ 12 جولائی کو اسلام آباد میں تاریخی دھرنا ہو رہا ہے، ہم عوام کو ریلیف دینے کے لیے دھرنا دینے جا رہے ہیں۔

Share and Enjoy !

Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں