لاہور (مانند نیوز) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی سے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا، وزیراعظم شہباز شریف پاکستان واپس آچکے ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ وہ عوام کو کس طرح ریلیف دیتے ہیں۔ اگر پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو جماعت اسلامی اپنے احتجاج سے دستبردار نہیں ہوگی اور ملتان سے اسلام آباد لانگ مارچ شروع کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی پہلے ہی لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج اور دستخطی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستانی شہریوں کو ریسکیو کروائے اور جاں بحق افراد کی میتیں وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کرے۔خیبر پختونخواہ میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت کرتے ہیں جبری طور پر معاملات کو کنٹرول کرنا درست نہیں۔حکومت اور تحریک انصاف بامعنی مذاکرات کریں، پُرامن احتجاج پی ٹی آئی کا حق ہے، تاہم حالات اس حد تک نہیں جانے چاہئیں کہ معاملات قابو سے باہر ہوجائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر جنجوعہ بھی موجود تھے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مہنگائی، پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس سے عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ پیٹرولیم لیوی عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ہے، جماعت اسلامی نے اس کے خلاف تحریک کا چیلنج قبول کیا ہے اور اس سے دستبردار نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ لیوی کے خلاف دستخطی مہم میں دو کروڑ سے زائد افراد کو شامل کیا جائے گا، اس کے بعد اسلام آباد کا رخ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں بڑا جلسہ ہوا ہے جبکہ جنوبی پنجاب، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے عوام کو لانگ مارچ میں شامل کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی پہلے بھی اعلان کرچکی ہے کہ لیوی کا مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں ملتان سے لانگ مارچ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر 26 سے 30 ارب روپے کے ریلیف کو بڑی کامیابی قرار دیتی ہے، لیکن بجلی، گیس اور پیٹرولیم لیوی کی مد میں عام آدمی سے مسلسل ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، ایک پیکیج سے عوام کو حقیقی ریلیف نہیں مل سکتا،بد قسمتی سے جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی سیاسی ماعت پیٹرولیم لیوی کے معاملے کو مؤثر انداز میں نہیں اٹھا رہی۔امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا پیٹرولیم لیوی سے کیا تعلق ہے، جبکہ ریفائنریز کے معاملات اور حکومتی فیصلوں کا عالمی منڈی سے کیا تعلق ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ ٹیکس، ایف بی آر کے اخراجات اور شاہانہ اخراجات کم کرنے کے بجائے عام لوگوں کی جیب سے رقم نکالی جا رہی ہے۔انہوں نے پالیسی ریٹ پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسے کم نہ کرنا ”شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننا” ہے اور آئی ایم ایف نے بھی ایسا نہیں کہا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ سود ختم کرنے کی بات کرتے رہے ہیں، لیکن اب سود کی شرح 11 فیصد ہے، جبکہ 2027ء میں سود ختم کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ افراطِ زر کا پالیسی ریٹ کم ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔آئی پی پیز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بجلی کی طلب18 ہزار میگاواٹ جبکہ کپیسٹی 49 ہزار میگاواٹ ہے تو ایسے پلانٹس کو پیٹرول اور گیس کیوں فراہم کی جا رہی ہے جو نصف صلاحیت پر چلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، بعض پاور پلانٹس کو کیپسٹی چارجز کی ادائیگی سے چند لوگوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی کو ظلم قرار دیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت کو ان تجاویز پر عمل کرنا چاہیے جن سے عام آدمی کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر آئی ایم ایف بڑے جاگیرداروں پر ٹیکس عائد کرنے کی بات کرتا ہے تو اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے 11 ارب روپے کے جہاز اور 6 ارب روپے کی بلٹ پروف گاڑیوں کے اخراجات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے حکومتی اخراجات کم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اب عوام کو ریلیف دینا ہوگا اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کی بات کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لیوی ختم کرنے کے معاملے پر گیند اب حکومت کے کورٹ میں ہے۔صومالیہ میں پاکستانی شہریوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر حافظ نعیم الرحمن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستانی شہریوں کو ریسکیو کروائے اور جاں بحق افراد کی میتیں وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ صومالی حکومت کے آپریشن کے دوران بحری قزاقوں کی فائرنگ سے تین پاکستانی شہری شہید ہوئے، جو انتہائی اندوہناک واقعہ ہے۔خیبر پختونخوا کی صورتحال پر انہوں نے گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جبری طور پر معاملات کو کنٹرول کرنا درست نہیں۔ انہوں نے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بامعنی مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج پی ٹی آئی کا حق ہے، تاہم حالات اس حد تک نہیں جانے چاہئیں کہ معاملات قابو سے باہر ہوجائیں۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کا اسد قیصر سے بھی رابطہ ہوا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں، اگر وزراء کی سطح پر مذاکرات سے نتیجہ نہیں نکل رہا تو وزیراعظم کو خود مداخلت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے احتجاج سے دستبردار نہیں ہوگی اور اگر پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو لانگ مارچ شروع کردیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے اب تک پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی سے کوئی رابطہ نہیں کیا، جبکہ جماعت اسلامی کا مطالبہ لیوی میں کمی نہیں بلکہ اس کا مکمل خاتمہ ہے