0

3 سال میں ترکیہ کے ساتھ تجارتی حجم کو 5 بلین ڈالرز تک بڑھائیں گے، شہباز شریف

استنبول(مانند نیوز ڈیسک) وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ چین مخلص دوست اور ترکیہ برادر ملک ہے،ماضی میں چین کی طرح ترکیہ کمپنیوں کیلئے پاکستان میں کچھ مشکلات رہی ہیں، اب ہر چیز شفاف طریقے سے ہوگی،یقین دلاتا ہوں ترکیہ کے سرمایہ کاروں کی جانب سے شکایات کا ازالہ کریں گے،دونوں ممالک کے تعلقات خراب کرنے والے عناسر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، 3 سال میں ترکیہ کے ساتھ تجارتی حجم کو 5 بلین ڈالرز تک بڑھائیں گے،  دنیا جانتی ہے کہ پاکستان اور ترکیہ برادر ملک ہیں، ان کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے، ترکیہ ہمارا دوسرا گھر ہے، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، دہشتگردی کی لعنت ختم کرنے کیلئے ترکیہ کے ساتھ ہیں، ماضی میں کچھ ترک کمپنیوں کیلئے پاکستان میں مشکلات رہیں، چینی ہمارے مخلص دوست ہیں، چین نے پاکستان میں بے پناہ سرمایہ کاری کی ہے، استنبول میں ہفتہ کو پاکستان ترکیہ بزنس کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ بزنس کونسل میٹنگ سے دونوں ممالک کی تجارت کو فروغ ملے گا۔ دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، دفاعی پیداوار سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط کرنے پر پیش رفت ہوئی ہے۔ترکیہ سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ترکیہ ہمارا دوسرا گھر ہے، ترکیہ اور پاکستان دونوں بھائی ہیں دونوں کے دل ساتھ دھڑکتے ہیں، پاکستان کے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے ترکیہ کی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، پاکستان اور ترکیہ برادرانہ تعلقات ہیں۔ترکیہ بھی پاکستان کی طرح دہشتگردی کا شکار رہا، دہشتگردی میں جاں بحق افراد کیلئے شدید دکھ اور افسوس ہے، دہشت گرد انسانیت کے درجے سے گرے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر انہوں نے چند روز قبل استنبول میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں شہید افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ دہشتگردی کو شکست دینے کیلئے ہر طبقے نے قربانیاں دی ہیں، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دیں، دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، دہشتگردی کی لعنت ختم کرنے کیلئے ترکیہ کے ساتھ ہیں۔رواں سال آنے والے بدترین سیلاب اور تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے35 ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں، 1700افراد سیلاب سے جاں بحق ہوئے ہیں۔ پاکستان کے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے ترکیہ کی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔سابق حکومت کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ مجھے علم ہے کہ ماضی میں کچھ ترک کمپنیوں کیلئے پاکستان میں مشکلات رہیں، بیجنگ کی طرح ترکیہ سے بھی کچھ شکایات آئی ہیں، ترکیہ کے صدر نے بتایا کہ ترک کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہ رہی ہیں، انہوں نے بتایا کہ کمپنیوں کو ادائیگیاں نہیں ہوتیں۔ترک سرمایہ کاروں کو یقین دلاتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ اب ہر چیز شفاف طریقے سے ہوگی، اب ہماری حکومت میں اس طرح کی صورت حال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے تعلقات خراب کرنے والے عناسر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، 3 سال میں ترکیہ کے ساتھ تجارتی حجم کو 5بلین ڈالرز تک بڑھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان کے عوام میں بہترین پوٹینشل موجود ہے، محنت کامیابی کی کنجی ہے، دونوں ممالک کے عوام کو ترقی کیلئے محنت کرنی ہوگی،ترقی کیلئے ایمانداری،محنت اور مستقل مزاجی سے کام کرنا ہوگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ روس یوکرین جنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں مہنگائی ہوئی، مہنگائی سے پاکستان کا ہر طبقہ اور ہر شعبہ متاثر ہوا، پاکستان ترکیہ کے ساتھ بہترین تعلقات کو مزید فروغ کا خواہاں ہے،ترکیہ کے سرمایہ کاروں کو یقین دلاتے ہیں کہ انہیں پاکستان میں سازگار ماحول فراہم ہوگا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں