اسلام آباد (مانند نیوز) انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات برآمدگی کیس میں تفتیشی افسر نے عبوری چالان عدالت میں جمع کرا دیا۔
عبوری چالان میں کیس میں 3 خواتین سمیت 5 ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا ہے، ملزمان میں حمیرا، صابرہ، اینا، اعزاز اور حمزہ شامل ہیں، عبوری چالان میں 16 گواہان کے نام شامل ہیں۔
عبوری چالان میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی 16 سال سے منشیات کی تیاری میں ملوث ہے، ملزمہ نےسابقہ شوہر سے کوکین بنانا سیکھا، طلاق کے بعد اپنا کام شروع کیا، ملزمہ کراچی کے پوش علاقے میں تعلیمی اداروں اور پارٹیز میں کارندوں کے ذریعے کوکین فروخت کرتی، کراچی اور لاہور میں جگہیں بدل کر قیام کرتی رہی ہے۔
عبوری چالان میں کہا گیا ہے کہ ابتداء میں ملزمہ پنکی کوکین شریک ملزمہ صابرہ کے ذریعے کراچی بھیجتی تھی، ملزمہ صابرہ کو 1 چکر کے 50 ہزار روپے ملتے تھے، 2019ء میں اے این ایف کے مقدمے میں اکاؤنٹ منجمند ہونے کے بعد صابرہ کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھولے، ملزمہ صابرہ کی گرفتاری کے بعد حمیرا کو منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا، شریک ملزمہ اینا 1 چکر کے 70 ہزار روپے وصول کرتی تھی۔
چالان کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون فرانزک سے کراچی سے 3 رائیڈرز اعزاز، حمزہ اور عاقب کے نام سامنے آئے، ملزمہ منشیات کی آن لائن فروخت کرتی تھی، ملزمہ کے موبائل فون پر واٹس ایپ سے خریدار رابطہ کرتا تھا، پنکی خریدار کو شریک ملزمان ذیشان اور سہیل کے اکاؤنٹس نمبر مہیا کرتی تھی، شریک ملزم ذیشان رقم کی وصولی کے اسکرین شاٹ بھیجتا تھا۔
عبوری چالان میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ اس کے بعد رائیڈرز کے ذریعے منشیات کی ترسیل کرتی تھی، ملزم ذیشان کے 5 اور سہیل کے 2 اکاؤنٹس سامنے آئے، ملزمان ذیشان کے 1 بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں سے زائد کی ٹرانزیکشن کے شواہد موجود ہیں، سائبر کرائم نے موبائل فون کے معائنے کے بعد وائس نوٹ اور چیٹ کے شواہد فراہم کیے، انمول عرف پنکی نے شریک ملزم سمیر کے نام پر مختلف اکاؤنٹ کھلوا رکھے تھے، شریک ملزمان ذیشان اور سہیل کے اکاؤنٹس سے سمیر کے اکاؤنٹ میں منشیات کی رقم منتقل کی جاتی تھی۔
چالان میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ انمول کے موبائل کے معائنے کے دوران سائبر کرائم نے ذیشان سے سمیر کے اکاؤنٹ میں رقم منتقلی کے شواہد فراہم کیے، ملزمہ پنکی کے قبضے سے ملزم سمیر کا اے ٹی ایم کارڈ برآمد ہوا، شریک ملزمان ذیشان اور سہیل نے ملزمہ پنکی سے تعلقات کا اعتراف کیا، ملزمہ انمول کا بھائی ناصر شریک ملزمان کی دکان پر ملازمت کرتا تھا، شریک ملزم سمیر نے دورانِ تفتیش پنکی کی جانب سے ضمانت میں معاونت کا اعتراف کیا، سمیر ملزمہ کے کہنے پر مختلف لوگوں کو منشیات سپلائی کرتا تھا۔
چالان کے مطابق سمیر نے معاوضے کے عوض اپنے نام پر بینک اکاؤنٹ انمول عرف پنکی کے استعمال کے لیے فراہم کیا، ملزمہ کے خلاف مزید 16 مقدمات درج ہیں، ملزمہ کے بھائی کامران مراد کے خلاف 2، شوکت کے خلاف 4، ناصر کے خلاف 1 اور ریاض کے خلاف 2 مقدمات درج ہیں، اے این ایف نے ملزمہ کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور 2 بینک اکاؤنٹ بلاک کروائے تھے، ملزمہ کے لاہور کے بینک اکاؤنٹ میں 6 کروڑ 39 لاکھ کی رقم موجود تھی، ملزمہ سادی کوکین 20 ہزار روپے فی گرام اور گولڈن اسٹف 40 ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی۔
عبوری چالان میں کہا گیا ہے کہ کراچی اور لاہور میں ملزمہ پنکی کے خلاف 27 مقدمات درج ہیں، شریک ملزمان کے ذیشان اور سہیل کے موبائل فونز پنجاب فرانزک لين بھیجے ہیں، سائبر کرائم کے فرانزک معائنے کے بعد فراہم کیے گئے موبائل فون کے سی ڈی آر کے لیے خط لکھے، ملزمہ کی ٹریول ہسٹری حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھا ہے، ملزمہ سے برآمد شدہ منشیات اور دیگر اشیاء کا کیمیکل معائنہ کروایا گیا، تفتیش میں معاونت کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھا ہے، اداروں کی جانب سے جوابات موصول ہونے کے بعد حتمی چالان جمع کروا دیا جائے گا۔