پشاور (مانند نیوز) مرغی اور دودھ کی قیمت بڑھنے کے اصل ذمہ دار وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ ہیں۔ محمد آصف اعوان۔ وفاقی وزیر نے من مانا فیصلہ کرکے برسوں سے آنے والی اجناس پر پابندی لگا دی۔ مہنگائی سے پسی عوام کو مزید بدحال کر دیا۔ لائیواسٹاک فارمرز ویلفئیر ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا حکومت سخت نوٹس لیں۔ پولٹری اور ڈیری پر آنے والے بحران کی زیادہ تر ذمہ داری وفاقی منسٹر طارق بشیر چیمہ پر عائد ہوتی ہے۔ ہم چیختے رہے اپیلیں کرتے رہے پر سیاست کے گندے کھیل میں مصروف ایک منسٹر کی رعونت نے GMO اور NON GMO سیڈ کے نام پر برسوں سے وطن عزیز میں آنے والے اجناس پر پابندی عائد کردی 14 میں سے 10 جہاز مختلف ممالک کی طرف چلے گئے اور جو پورٹ پر اترے تھے اوچھے ہتھکنڈوں سے وہ بھی کئی ماہ ریلیز نہ کئے گئے جب اجناس مہنگے ہوئے تو پیداواری لاگت بڑھی اور اب اسکا نتیجہ سامنے ہے چکن 1000 روپیہ فی کلو گرام فروخت ہورہا ہے دودھ بھی 300 روپیہ فی لیٹر تک چلا جائے گا ایک طرف تو اجناس کا پاکستان میں داخلے سے منع کرنا یا بحری جہازوں کو دوسرے ممالک طرف رخ کرنے پر مجبور کرکےدنیا بھر میں پاکستان کا امیج خراب کیا گیا دوسری طرف مہنگائی پر مہنگائی لادھ کر عوام/صارف کو مزید بدحال کردیا گیا مہنگائی کا طوفان کیا کچھ کرے کرے گا اسکا کوئی حل اب نہیں ہے۔