وانا (مانند نیوز ) جماعت اسلامی کے زیر اہتمام حقوقِ قبائل تحریک کے سلسلے میں قبائل امن کاروان کا 18 مارچ کو جنوبی وزیرستان لوئر میں جلسہ عام منعقد ہوا جس سے جماعت اسلامی کے خیبرپختونخوا کے جنرل سیکرٹری عبدالوسع ، حقوق قبائل تحریک کے چیئرمین و امیدوار ضلع خیبر شاہ فیصل آفریدی ، ڈپٹی جنرل سیکریٹری تحریک حقوق قبائل نوید خان ، نائب صدر خیبرپختونخوا مولانا تسلیم اقبال، امیر جماعت اسلامی شمالی وزیرستان ، سابقہ فاٹا کے امیر سردار خان ، منتظم جامعہ عربیہ شمالی و جنوبی وزیرستان مولانا عمر وزیر ، پرنسپل سیف الرحمن طیب و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا انضمام کے وقت قبائل کے ساتھ کئے گئے وعدے ایفا نہیں ہوئے اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ قبائلی عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں، این ایف سی ایوارڈ میں مختص تین فیصد حصہ دیا جائے ، بیس ہزار نوکریاں دی جائیں، سالانہ ایک سو دس ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے جائیں، متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے، پی ڈی ایم اور تحریک انصاف کی دونوں حکومتوں نے قبائلی عوام کو بے یارو مددگار چھوڑا جو کہ ظلم ہے، جماعت اسلامی قبائیلی عوام کے زخموں پر مرہم رکھ کر نقصانات کا ازالہ کریں گی۔ ایف سی آر کے خاتمے میں جماعت اسلامی نے فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا۔مقررین نے حقوق قبائل مارچ کے جلسے سے خطاب میں کہا کہ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کے درمیان جاری جنگ کرسی کی جنگ ہے اور دونوں کی کامیابی پاکستانی عوام کی ناکامی ہے ،انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے قبائلی عوام کو ایک گلی میں دھکیلا گیا ہے یہاں کی 70 فیصد نوجوان غربت اور بیروزگاری سے پریشان بیرونی ممالک میں مزدور ہے جبکہ یہاں کے موتی قوم ایک منفرد کوئلہ اور دیگر معدنیات کے ذخائر سے یہاں کے عوام محروم کرنے کی کوشش کی جا رہا ہے انہوں نے قبائلی عوام کیلئے صحت تعلیم اور روزگار دینے سمیت سرتاج عزیز سفارشات میں ایک مختصر سالانہ ایک سو دس ارب روپے کی وعدہ کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا ،انہوں نے مزید کہا کہ تو شہ خانے سے سب پارٹیوں نے پورا فائدہ اٹھایا اور آج ایک دوسرے پر الزامات لگاتی ہے کہ آپ کی چوری بڑی جبکہ ہماری چوری چھوٹی ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیبلیشمنٹ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی کمزوری پر سوار ہو کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ,یاد رہیں کہ جماعت اسلامی نے حقوق قبائل مارچ کے سلسلے میں ایک تحریک کا آغاز کیا ہے جس میں انہوں نے قبائلی عوام کے حقوق کیلئے مندرجہ ذیل نکات رکھیں ہیں۔ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کے قیام کیلئے بلا تفریق عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔قبائلی اضلاع کی پسماندگی کو دور کر کے پاکستان کے دیگر اضلاع کی طرح ترقی دی جائے۔ حکومت فاٹا اصلاحات پر سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات سے مختلف حیلے بہانے بنا کر بھاگ رہی ہے جو کہ قبائلیوں کی حق تلفی ہے حکومت فوری طور پر کمیٹی کے سفارشات پر من و عن عمل کرتے ہوئے سالانہ 100 ارب اور 10 سالوں میں 1000 ارب روپے کا وعدہ پورا کریں۔ قبائلی اضلاع کا قومی وسائل پر اتنا ہی حق ہے جتنا دوسرے صوبوں کا اسلئے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کردہ 3 فیصد حصہ جلد فراہم کیا جائے ۔ قبائلیوں کے حق رائے دہی کا احترام کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی 12 اور صوبائی اسمبلی کی 24 نشستیں بحال کی جائیں۔ قبائلی اضلاع میں معدنیات پر ادارے قبائلیوں کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ قبائلی اضلاع کے معاشی استحکام کے لئے ناگزیر ہے کہ لیزر کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے ۔ قبائلی اضلاع کے بے روزگار نو جوانوں کو روزگار کے بہتر مواقعے فراہم کرنے کیلئے بلا سود قرضے دیئے جائیں۔ قبائلیوں کی ملک کی خاطر قربانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک کے معزز شہری کا حق دیا جائے۔ قبائلی اضلاع میں مسمار گھروں کیلئے معاوضے کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ قبائلی اضلاع کیلئے لیویز میں کم از کم 20 ہزار مقامی افراد کو بھرتی کیا جائے ۔ قبائلی اضلاع میں معاشی ترقی کیلئے منصوبوں کو حتمی شکل دی جائے اور سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا۔ قبائلی اضلاع میں تعلیمی انقلاب لا کر غیر مثبت سرگرمیوں کو کچلا جا سکتا ہے، اسلئے ناگزیر ہے کہ ہر ضلع میں یونیورسٹیاں، کالجز اور سکولز بنائے جائیں اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو بحال کیا جائے۔ قبائلیوں کا بھی حق ہے کہ دیگر پاکستانیوں کی طرح ان کو بھی صحت کی سہولیات دہلیز پر میسر ہوں لیکن افسوس ناک امر ہے کہ 20 ہزار مربع میل کے علاقوں میں کوئی میڈیکل کالج اور بڑا ہسپتال نہیں لہذا فوری صحت کی سہولیات دینے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ قبائلی نو جوانوں کو تعلیم کے حصول میں آسانیان دی جائیں اور ان کیلئے وظائف کا اجزاء کیا جائے ۔ کھیلوں کو غیر مثبت سرگرمیوں کے خلاف بہترین ہتھیار قرار دیا جاتا ہے اور یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کرکٹ سمیت ہر گیم میں قبائیلیوں نے اپنا لوہا منوایا ہے اسلئے ہر تحصیل کی سطح گراؤنڈ بنائے جائیں۔ – قبائلی اضلاع میں معطل شدہ خاصہ دار فورس کو بحال کیا جائے۔ قبائلی اضلاع میں افغانستان کی طرف تمام تجارتی راستے کھول دیئے جائیں ,