پشاور(مانند نیوز) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ حکومت میر علی واقعے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ میر علی میں متاثرہ خاندان گزشتہ ایک ہفتے سے بچوں کی لاشوں سمیت دھرنے دیے بیٹھا ہے، لیکن نہ صوبائی حکومت اور نہ ہی وفاقی حکومت ان کی بات سننے کو تیار ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اب ان کی آواز کو دبانے کے لیے شمالی وزیرستان میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی بند کردی گئی ہے۔ کیا ریاست یہ سمجھتی ہے کہ کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کی بجائے لوگوں کی آواز کو دبایا جائے اور اس کے لیے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بند کردی جائیں؟ یہ امر افسوسناک اور شرمناک ہے۔ ہم اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ میر علی ڈرون حملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور مستقبل میں اس قسم کے واقعات کے تدارک کے لیے میکنزم بنایا جائے۔ میر علی دھرنے مطالبات جائز ہیں، دھرنے اور اس کے مطالبات کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہیں۔ریاست خیبر پختونخوا کے عوام کو گلے لگائے، ان کی محرومیوں کا ازالہ کرے، انہیں دیوار سے لگانے اور ریاست سے نفرت کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ عوام ہیں تو ریاست ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی دفتر سے جاری کیے گئے بیان میں کیا۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ 19مئی کو شمالی وزیرستان میں گھر پر ڈرون کے ذریعے بم گرایا گیا جس میں چار معصوم بچوں کی جانیں چلی گئیں۔ اس سے قبل ٹانک میں مسجد پر ڈرون سے بم گرایا گیا اور اس میں تبلیغی جماعت کے دو ساتھی شہید اور دو زخمی ہوگئے۔ جانی خیل میں بھی ڈرون کے ذریعے گھروں پر بم گرائے گئے جن میں بچوں اور خواتین سمیت 16افراد زخمی ہوئے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور بڑھتا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے نام پر معصوم بچوں اور بے گناہ افراد کو مارنا ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ طرفین کو جنگ لڑنی ہے تو کھلے میدانوں میں لڑ لیں، عوام کو اس جنگ کا ایندھن نہ بنایا جائے۔اس لایعنی جنگ کے نیتجے میں ہزاروں بے گناہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ سلسلہ اب رک جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی چھا ونیاں عوام کے لیے کھولی جائیں۔چیک پوسٹیں ختم اور ان پر عوام کی تذلیل بند کی جائے۔ پشاور ائیر پورٹ پر چیک پوسٹوں کی بھر مار ہے جس پر روزانہ عوام ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ ان کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ مظلوم کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ ہم مظلوموں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔