واڑی (مانند نیوز)واڑی ہسپتال میں نومولود بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے محکمہ صحت، یونیسیف اور انٹیگریٹڈ نیوٹریشن پروگرام کے اشتراک سے خصوصی سیمینار اور آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں خواتین ہیلتھ ورکرز، نرسز، نیوٹریشن اہلکاروں اور مقامی کمیونٹی نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔واک کے شرکاء نے ماں کے دودھ کی افادیت پر مبنی پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج نعروں کے ذریعے ماؤں کو اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی ترغیب دی گئی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنرواڑی عبدالقیوم خان، انٹیگریٹڈ نیوٹریشن پروگرام کے منیجر محمد عاصم، ایم ایس ڈاکٹر جہانزیب خان، ڈپٹی ڈی ایچ او صمد خان نے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے ایک مکمل غذا ہے جو اس کی ذہنی، جسمانی اور مدافعتی نظام کی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ماہرین نے کہا کہ پیدائش کے فوراً بعد بچے کو ماں کا دودھ پلانا نہ صرف سنت نبوی ﷺ ہے بلکہ جدید تحقیق بھی اس کی بھرپور تائید کرتی ہے۔ چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانا چاہیے اور دو سال تک جاری رکھنا بچے کی بہتر صحت کی ضمانت ہے۔مقررین نے خیبر پختونخوا کے تازہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 64 فیصد بچوں کی پیدائش سرکاری اسپتالوں میں ہوتی ہے، مگر ان میں سے صرف 22 فیصد نوزائیدہ بچوں کو پیدائش کے بعد ماں کا پہلا دودھ پلایا جاتا ہے، جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے اور فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ماہرین نے والدین، علمائے کرام، اساتذہ، میڈیا اور کمیونٹی کارکنان سے اپیل کی کہ وہ ماں کے دودھ کی اہمیت سے متعلق آگاہی مہمات میں بھرپور کردار ادا کریں تاکہ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں کمی آئے اور معاشرے میں ایک صحت مند نسل پروان چڑھے۔