اسلام آباد (مانند نیوز)آزاد کشمیر حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن اور بے بنیاد بیانیہ پھیلا رہی ہے، حکومت نے مذاکرات، ریلیف اور عمل درآمد کا راستہ اختیار کیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ جے اے اے سی نے لچک کے بجائے دباؤ اور سڑک کی سیاست کو ترجیح دی، 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم ہونے کے بعد بھی احتجاج پر اصرار عوامی مفاد نہیں بلکہ سیاسی ضد ہے، پُرامن احتجاج جمہوری حق ہے، مگر قانون ہاتھ میں لینے، راستے بند کرنے اور عوامی زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

آزاد کشمیر میں سیاحوں کے داخلے کیلئے 5 تا 20 جون تک پابندی عائد کردی گئی

اگر ہٹ دھرمی کرکے امن وامان خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، جے اے اے سی کو عوامی مطالبات کے نام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، آزاد کشمیر کو مسلسل احتجاج نہیں، استحکام، مکالمہ اور عملی حل درکار ہے۔

حکومت آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ 9 جون کو انتخابی عمل میں رکاوٹ عوامی حقوق کا دفاع نہیں، جمہوری عمل متاثر کرنے کی کوشش ہوگی، عوام کو بندشوں، ہڑتالوں اور دباؤ کی سیاست کے بجائے ووٹ، مکالمے اور آئینی عمل پر اعتماد کرنا چاہیے، حکومت نے دروازے بند نہیں کیے مگر عوامی ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے بجائے محاذ آرائی کا راستہ چنا۔

اے جے کے حکومت کا مزید کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں امن و استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، عوامی زندگی کو یرغمال بنانے کی کوشش قانون کے دائرے میں روکی جانی چاہیے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے