شانگلہ (مانند نیوز)شانگلہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال الپوری سخت انتظامی بدحالی کا شکار، ڈاکٹر سے لے کر کلاس فور ودیگر کا خود ساختہ ڈیوٹی روسٹر بنا کر ہفتے میں 36 گھنٹے یعنی ایک دن اور ایک رات گزار کر پوری ہفتے کی ڈیوٹی پوری کر رہے ہیں۔ماہرین طب کا شدید تحفظات۔ شانگلہ کے سب سے بڑے ہسپتال ڈی ایچ کیو الپوری تباہی کے دہانے پر ہیں،ہسپتال میں ڈیوٹی کرنے والے تمام ملازمین اپنے مرضی کے مالک جہاں چاہے ڈیوٹی لگاتے ہیں۔ ڈیوٹی روسٹر لگاتے وقت تعیناتی کی سپیشلائزیشن کے کرنے والوں ایم اوز کو ایمرجنسی میں جبکہ دیگر مقامی ڈاکٹروں کو زاتی مریض بنانے کیلئے او پی ڈیز میں لگا کر ان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں،سپیشلسٹ سمیت کہی اہم تعیناتی سیاسی بنیاد پر ہونے کے باعث خالی پڑی ہیں۔ہسپتال میں کوئی کسی سے ڈیوٹی لینے کے روادار نہیں، سخت انتظامی بحران کا شکار ہسپتال مریضوں کو علاج معالجے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔طب کے شعبے سے وابستہ ماہرین اس معاملے کو شدید تحفظات کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے بھر میں ڈاکٹر اور دیگر طب کا سٹاف ہفتے میں صرف 36 گھنٹے ڈیوٹی لگا کر پورا چار دن پرائیویٹ کلینکس اور اپنا کاروبار چلاتے ہیں ماہرین نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص 36 گھنٹے مسلسل چک اپ کریں یا ڈیوٹی کریں یہ ایک غلط روش بن چکا ہے ان کو ختم کرنا چاہیے۔ شانگلہ جیسے علاقوں میں جہاں پہلے صحت سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں میں ڈاکٹر اور دیگر سٹاف اپنی ڈیوٹیاں 36 گھنٹے پورے کر کے پورا ہفتہ غائب رہتے ہیں تاہم یہ طریقہ کار سرکاری ہسپتالوں کی تباہی کا سب سے بڑا سبب ہے اکثر اوقات ایک ڈاکٹر 36 گھنٹوں میں صرف مریضوں کی معائنہ کرتے ہیں اگر اس کا اوسطا تخمینہ نکالا جائے تو حکومت کو ایک مریض کا فیس ہزاروں میں پڑتا ہے کیونکہ سرکاری ڈاکٹر صرف تنخواہ نہیں لیتا اس کے رہائش اور دیگر اخراجات بھی حکومت دیتی ہیں۔210 بیڈ پر مشتمل ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال الپوری میں 360 سے زائد ملازمین تعینات ہے جس میں 50 ڈاکٹر 52 نرسز 170 سے زائد کلاس فور 70 پیرامیڈیکل و دیگر شامل ہیں مگر بدقسمتی سے یہ ہسپتال اپنے مریضوں کو علاج معالجے میں مکمل طور پر ناکام ہے اس کی بنیادی وجہ ایڈمنسٹریشن کی کمزوری ہیں۔