وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر وانا میں متحدہ سیاسی امن پاسون کے زیرِ اہتمام امن کے قیام کے حق میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا، جسمیں مختلف سیاسی، سماجی اور قبائلی مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مظاہرین نے رستم بازار وانا میں ریلی نکالی، جس کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر امن کی بحالی، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے اور ریاستی رٹ کے قیام کے مطالبات درج تھے۔ شرکاء پرجوش نعرے لگا رہے تھے، جن میں امن کا قیام ریاست کی ذمہ داری ہے اور علاقے میں دہشت گردی نامنظور جیسے نعرے شامل تھے۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ علاقے میں بدامنی، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے مسلسل واقعات نے عوام کو شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ مقررین نے ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں نبھائیں اور علاقے میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے سنجیدہ و مؤثر اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ عوام مزید کسی قسم کی دہشتگردی یا ناانصافی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ آئے روز پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے عام شہریوں کی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرے اور علاقے میں تعلیم، صحت، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دے۔مظاہرین نے جنوبی وزیرستان سے سابق رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا، اور پاک افغان بارڈر پر واقع انگوراڈہ گیٹ کو دو طرفہ تجارت کے لیے کھولنے کی اپیل کی۔احتجاج کے باعث وانا بازار مکمل طور پر بند رہا، جب کہ پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔