پشاور(مانند نیوز) غیر سرکاری تنظیم آئی آر ایس پی اور فریش واٹر ایکشن نیٹ ورک ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام پانی، صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت (واش) کے شعبے میں خواتین کی مؤثر شرکت کو فروغ دینے اور انہیں قائدانہ کرداروں کے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے موضوع پر ایک اہم ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ورکشاپ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی مختلف کالجز اور یونیورسٹوں کے طالبات، خواتین، سماجی کارکنان، کمیونٹی نمائندگان، ترقیاتی اداروں کے عہدیداران اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ اس موقع پر آئی آر ایس پی کے ایگز یکٹو ڈائریکٹر شاہ ناصر،محمد اسماعیل،نوشین سردار و دیگر مقررین نے کہا کہ پانی، صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے شعبے میں خواتین کا کردار نہایت اہم ہے کیونکہ گھریلو سطح پر پانی کے استعمال، حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد اور صفائی کے انتظامات میں خواتین بنیادی ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر خواتین کو فیصلہ سازی، منصوبہ بندی اور قیادت کے مواقع فراہم کیے جائیں تو واش سیکٹر کے پروگراموں کی افادیت اور پائیداری میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی شمولیت نہ صرف مقامی سطح پر مسائل کے مؤثر حل میں مددگار ثابت ہوتی ہے بلکہ معاشرتی ترقی اور عوامی صحت کے اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ورکشاپ کے دوران خواتین کو درپیش چیلنجز، صنفی مساوات، قیادت کی صلاحیتوں میں اضافے، کمیونٹی کی سطح پر مؤثر نمائندگی اور واش سیکٹر میں روزگار کے مواقع کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں قائدانہ کرداروں میں آگے لانے کیلئے مشترکہ کاوشوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔مقررین نے کہا کہ صاف پانی اور بہتر صفائی کی سہولیات ہر شہری کا بنیادی حق ہیں اور ان مقاصد کے حصول کیلئے خواتین کی بھرپور شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت، ترقیاتی اداروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ خواتین کیلئے مساوی مواقع، تربیتی پروگراموں اور فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کریں۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کی قیادت کو فروغ دینے، صنفی مساوات کو یقینی بنانے اور واش سیکٹر میں ان کی مؤثر شمولیت کیلئے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی تاکہ ایک صحت مند، صاف ستھرا اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔