0

وانا کھیلوں کے فروغ میں غفلت، نوجوان ٹیلنٹ زوال کا شکار ہونے لگا، احمد وزیر

وانا (نمایندہ مانند نیوز) وانا چیئرمینز اتحاد کے صدر احمد وزیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان لوئر میں بے پناہ کھیلوں کا ٹیلنٹ موجود ہونے کے باوجود مناسب مواقع اور سرکاری سرپرستی نہ ہونے کے باعث نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتیں ضائع ہونے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔

انہوں نے محکمہ کھیل، خصوصاً ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر عادل شاہ کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ محکمہ اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔

احمد وزیر نے کہا کہ تقریباً ایک ماہ قبل آل پاکستان فٹبال ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لیے دس لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی تھی، تاہم اس فنڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور خرد برد کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر عادل شاہ نے مبینہ طور پر بعض عناصر کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے گرانٹ کا بڑا حصہ ہڑپ کر لیا، جس کے باعث ٹورنامنٹ اور کھلاڑیوں کو متوقع سہولیات فراہم نہ کی جا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کھیلوں کا سامان اور دیگر سہولیات صرف مخصوص سیاسی جماعت، خصوصاً پی ٹی آئی سے وابستہ افراد تک محدود رکھی جا رہی ہیں، جبکہ دیگر نوجوان کھلاڑیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، محکمہ کھیل کسی ایک سیاسی گروہ کے بجائے پورے جنوبی وزیرستان لوئر کے عوام کا ادارہ ہے، اس لیے تمام کھلاڑیوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جانا چاہیے۔

صدر چیئرمینز اتحاد احمد وزیر نے کہا کہ مقامی سطح پر کھیلوں کی زیادہ تر سرگرمیاں اپنی مدد آپ کے تحت جاری ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وانا کے نوجوان کھلاڑی انتہائی محدود وسائل کے باوجود اپنی محنت، لگن اور صلاحیتوں کی بدولت مختلف کھیلوں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیرستان کے کئی کھلاڑی ملکی سطح پر علاقے کی نمائندگی کر رہے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہیں سرکاری سطح پر مطلوبہ تعاون، تربیت اور سہولیات میسر نہیں۔

انہوں نے کھیلوں کے میدانوں کی ابتر صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیشتر آؤٹ ڈور اسپورٹس گراؤنڈز خستہ حالی کا شکار ہیں اور کئی مقامات پر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق محکمہ کھیل کی جانب سے نہ تو گراؤنڈز کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی نوجوانوں کو کھیلوں کی مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے کوئی مؤثر منصوبہ بندی دکھائی دے رہی ہے، جس کے باعث کھلاڑیوں میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے۔

احمد وزیر نے صوبائی حکومت کے کھیلوں کے فروغ سے متعلق دعوؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومتی اعلانات صرف بیانات تک محدود دکھائی دیتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وزیرستان کے باصلاحیت نوجوانوں کو بروقت سہولیات، معیاری کوچنگ اور سرکاری سرپرستی فراہم نہ کی گئی تو یہ قیمتی ٹیلنٹ ضائع ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر عادل شاہ جنوبی وزیرستان لوئر میں اپنی موجودگی یقینی بنانے کے بجائے بنوں میں مقیم ہیں اور وہیں سے محکمہ کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلا رہے ہیں۔ ان کے مطابق جنوبی وزیرستان کے کئی سرکاری محکموں کے افسران بھی اپنی تعیناتی کے اضلاع میں موجود نہیں، جس کی وجہ سے عوامی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور سرکاری امور شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

آخر میں احمد وزیر نے ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر مسرت زمان ، ڈائریکٹر اسپورٹس اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر عادل شاہ کو فوری طور پر جنوبی وزیرستان لوئر میں تعینات کیا جائے، ان کے خلاف شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ کھیلوں کے میدانوں کی بحالی، نوجوان کھلاڑیوں کو سہولیات کی فراہمی اور کھیلوں کے فروغ کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ وزیرستان کا ٹیلنٹ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مزید ابھر کر سامنے آ

Share and Enjoy !

Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں

six + nineteen =