پشاور(مانند نیوز)ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ملیریا پروگرام مردان محمد عارف جان نے کہا ہے کہ ملیریا جیسے مہلک مرض سے بچاؤ احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص اور مؤثر عوامی آگاہی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملیریا ایک قابلِ علاج بیماری ہے، تاہم اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اجتماعی کوششیں انتہائی ضروری ہیں۔انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شہری اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں، پانی کو کھڑا نہ ہونے دیں اور مچھروں کی افزائش کے ممکنہ مقامات کو ختم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مچھر دانی کا استعمال، خاص طور پر رات کے وقت، ملیریا سے بچاؤ میں نہایت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔محمد عارف جان نے کہا کہ اگر کسی شخص کو بخار، سردی لگنا، پسینہ آنا یا جسم میں درد جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی صحت مرکز سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ تاخیر کی صورت میں بیماری شدت اختیار کر سکتی ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی جانب سے مختلف علاقوں میں آگاہی مہمات، فری ٹیسٹنگ اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیونٹی لیول پر بھی لوگوں کو شعور دینے کے لیے مختلف پروگرامز اور سیمینارز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ محکمہ صحت کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور ملیریا کے خاتمے کے لیے دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں، کیونکہ ایک صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔
0





