نئی دہلی (مانند نیوز)بھارت کی سپریم کورٹ نے پیر کے روز مدراس ہائیکورٹ کے اس حکم پر عمل درآمد روک دیا جس میں تمل ناڈو حکومت کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ریاست میں کہیں بھی گائے یا بچھڑے کے ذبح کرنے کو یقینی طور پر روکے۔سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ تمل ناڈو حکومت کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کی سماعت کے دوران سنایا۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے ریاستی حکومت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے اس حصے پر حکمِ امتناع جاری کیا جس میں ریاست بھر میں گائے ذبح کرنے پر مکمل پابندی کی ہدایت دی گئی تھی۔تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ مدراس ہائیکورٹ کا فیصلہ ‘عدالتی قانون سازی’ کے مترادف ہے اور اس میں داخلی تضادات موجود ہیں۔ریاستی حکومت نے تمل ناڈو اینیمل پریزرویشن ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت 10 سال سے زائد عمر کی گائے کو، اگر انھیں کام یا افزائشِ نسل کے لیے ناکارہ قرار دیا جائے، تو مخصوص شرائط کے تحت ذبح کرنے کی اجازت ہے۔حکومت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ مدراس ہائیکورٹ نے ایک طرف قرار دیا تھا کہ جانوروں کا ذبح صرف منظور شدہ مذبح خانوں میں کیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب مکمل پابندی کا حکم جاری کر دیا جو ایک دوسرے سے متصادم ہے۔واضح رہے کہ مدراس ہائیکورٹ کے جسٹس جی آر سوامی ناتھن اور جسٹس وی لکشمی نارائنن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کوئمبٹور کے رہائشی کے سوریا کی درخواست پر ریاست بھر میں گائے ذبح کرنے پر پابندی کا حکم دیا تھا۔درخواست گزار نے الزام عائد کیا تھا کہ مقامی حکام نے عیدالاضحیٰ سے قبل غیر مقررہ مقامات پر گائے ذبح کرنے کی اجازت دی تھی۔بعد ازاں ہائیکورٹ نے تمل ناڈو کے چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریاست میں کسی بھی مقام پر گائے یا بچھڑے کو ذبح نہ کیا جائے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے