اسلام آباد (مانند نیوز) نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انسان کی صحت، بڑھاپے کی رفتار اور ممکنہ عمر پر اثرات پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو سکتے ہیں، ماں کی غذائیت، ذہنی دباؤ اور حمل کے دوران مجموعی صحت بچے کی جسمانی نشو و نما پر دیرپا اثر ڈال سکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ رحمِ مادر کا ماحول قدرتی طور پر بچے کے جسمانی اعضاء اور نظاموں کی تشکیل کو متاثر کرتا ہے جس کے اثرات پوری زندگی برقرار رہ سکتے ہیں۔
ماہرین نے اس حوالے سے مزید تحقیق کی تجویز دی ہے تاکہ حمل سے پہلے اور ابتدائی عمر کے عوامل کا انسانی صحت اور طویل عمر پر اثر مزید سمجھا جا سکے۔
محققین کے مطابق اگرچہ جینیاتی عوامل اہم ہیں لیکن رحمِ مادر میں ملنے والا ماحول بھی مستقبل کی صحت اور بیماریوں کے خطرات میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ بچے کی جسامت اور صحت پر اس کے والدین کی صحت اور طرزِ زندگی بہت اثر رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن غذاء، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور تمباکو نوشی سے پرہیز جیسے صحت مند طرزِ زندگی کے عوامل پیدا ہونے والے بچے کی زندگی اور اس کی صحت بہتر بنانے اور بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے زچگی کی بہتر صحت اور حمل کے دوران معیاری طبی نگہداشت کی اہمیت مزید اجاگر ہوتی ہے کیونکہ اس کے فوائد بچے کی پوری زندگی تک پہنچ سکتے ہیں۔