الپوری (مانند نیوز ڈیسک) شانگلہ ٗآل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن ضلع شانگلہ کا ایک اجلاس زیرصدارت صوبائی صدر حاجی فضل معبودخان منعقد ہوا جسمیں ضلع بھر سے تمام ریٹائرڈ سرکاری ملازمین،پنشنرز نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔ااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈویژنل سینئرنائب صدر بخت افسر نے ریٹائرڈسرکاری ملازمین کے سلگتے ہوئے مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اس امر پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ ضعیف العمر ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو ملک و قوم کیلئے گران قدر خدمات سرانجام دینے کے باوجود نظرانداز کیا جارہا ہے۔آپا ضلع بونیر کے صدر سلطان فاروقی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنشن میں 10فیصد اضافہ اس مہنگائی کے دور میں بہت ہی کم ہے،حکومت نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں اضافے کے برابر پنشن میں اضافہ کی جائے گا۔انھوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوے کہاکہ بجٹ میں پنشنرز کیلئے30فیصد اضافہ کیا جائے تاکہ اس مہنگائی میں ان کا گزر بسر ممکن ہوسکیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر حاجی فضل معبود خان نے کہا کہ حکومت ہمارے ساتھ ظلم کررہی ہے،گزشتہ سال تاریخ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔حکومت ریٹائرڈ ملازمین کے پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کریں۔صوبائی صدر فضل معبود نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پنشنرز کے پنشن میں 25فیصد اضافہ کریں،پنشنرز کے بچوں کو ملازمت میں تعلیمی قابلیت کے مطابق 20فیصد کوٹہ مختص کیا جائے،بی فنڈ مورخہ1-7-2010کے بعد ریٹائر یا فوت ہونے والے ملازمین کو ملتا ہے یہ بینیفٹ 7/2010سے قبل ریٹائرڈ /فوت ہونے والے ملازمین کو بھی دیا جائے۔ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے 1-1-2013کے بعد ریٹائرڈ اور فوت ہونے والے ملازمین (تعلیم)کو بینیفٹ دیا جارہا ہے لیکن اس سے قبل ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اس فائدے سے محروم ہیں انھیں بھی یہی سہولت دی جائے،فیملی پنشن کی شرح 75کے بجائے100فیصد تک بڑھایا جائے،اولڈایج بینیفٹ کی معیاد 85سال سے گھٹاکر75سال کردی جائے۔بی فنڈ کیسسز سیکرٹری بی فنڈ نے اب تک فنڈز ایلاٹ نہیں کئے ہیں لہٰذا بلاتاخیر فنڈز فراہم کئے جائے۔اجلاس میں آپا شانگلہ کے صدر عبدالکبیرخان،ڈویژنل سیکرٹری اطلاعات محمد یونس،ضلعی سیکرٹری شانگلہ تورابازخان،صدر بشام سب ڈویژن سیدقاسم شاہ،صدرپورن ڈویژن روزی خان،صدر چکیسر زمان خان،سیدالبشر و دیگر نے بھی خطاب کیا۔