الپوری (مانند نیوز ڈیسک) بلوچستان مارواڑ ٹاپ میں شانگلہ کے دو کان کنوں کے قتل کیخلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے میتوں کے ہمراہ الپوری چوک میں احتجاجی دھرنا،ہزاروں افراد کی شرکت اس وقت تک میتیں پڑی رہے گی جب تک کوئی حل نہ نکلے۔پولیس اور انتظامیہ کیساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم۔الپوری چوک میں اجتماعی نماز جنازہ کے بعد مقامی علاقوں میں سُپردخاک۔رواں ماہ کوئلہ کان میں مبینہ قتلوں کا تیسراواقعہ عوامی حلقے سراپا احتجاج بن گئے۔تفصیلات کے مطابق منگل کے روز بلوچستان کوئٹہ کے بالائی علاقے مارواڑ ٹاپ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شانگلہ کے دو کان کن جان بحق ہوئے جسکے بعد شانگلہ میں عوامی حلقوں کی جانب سے زبردست احتجاج ریکارڈ کیا گیا،سوشل میڈیا پر محنت کشوں کی بے ہیمانہ قتل کیخلاف شدید ردعمل سامنے آیا اور کوئلہ کان مزدوروں کیلئے کام کرنے والی تنظیم نے عوام کو الپوری چوک میں میتوں کے ہمراہ دھرنا دینے کی اپیل کردی جسمیں ہزاروں افراد نے شرکت کی،مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کے ضلعی قائدین کا کوئلہ کان مزدوروں کے قتل پربلوچستان حکومت پر شدید تنقید۔مظاہرین کا بلوچستان حکومت سے واقع میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کی مطالبہ،کوئلہ کان محنت کش مزدوری کیلئے گئے تھے جن کو وہاں قتل کردیا گیا آئے روز ایسے واقعات ریاستی عملداری کی کمزوری ہے وہاں ان مزدوروں کی کسی کیساتھ کوئی دشمنی نہیں۔ہزاروں فٹ زمین کے اندر رزق حلال کیلئے کام کرنے والے مزدوروں کی ایسے واقعات میں حلاکتیں حکومت کیلئے باعث شرمندگی ہے،کان کنوں کو بلوچستان سمیت ملک بھرمیں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔مظاہرین کانے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں قتل کئے گئے کان کنوں کے قاتلوں کو گرفتار کرکے ملکی قوانین کے تحت سزا دی جائے۔بلوچستان حکومت ان شہداء کو شہید پیکج دیں۔بلوچستان حکومت کوئلہ کان مالکان کو قوانین کے مطابق پرائیویٹ سیکورٹی رکھنے کی پابند بنائے۔شانگلہ کے65فیصد سے زائد کوئلہ کان مزدوروں کیلئے بلوچستان،پنچاب اور سندھ حکومت خیبرپختونخواہ حکومت سے ملکر یہاں ان کیلئے سکول،ہسپتال،گھریں اور دیگر سہولیات فرہم کریں۔ الپوری بازار کے تاجروں نے احتجاجی طور پر شٹرڈاؤن کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔شانگلہ کے ہزاروں مظاہرین کو بلوچستان حکومت کی بے بسی پر سخت تنقید،تیسرے واقع پر بلوچستان حکومت کو خاموشی کے بجائے قاتلوں کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ۔۔