سوات (مانند نیوز ڈیسک) سوات  اسسٹنٹ کمشنر کے ہاتھوں کبل بازار کے تاجروں کے تین کروڑ اُنیس لاکھ ڈوب گئے،سوات میں 6 کروڑ روپے جمع کرانے کے باوجود بھی تاجروں کو رعایتی نرخ پر چینی اسٹاک فراہم نہیں کیا گیا۔پندرہ ماہ کا عرصہ گذرگیا حکومت نہ چینی فراہم کررہی ہے اور نہ ہی رقم واپس کی جارہی ہے جس کے باعث تاجر معاشی بدحالی کا شکار ہورہے ہیں۔گذشتہ سال ملک میں چینی بحران کے بعد صوبائی حکومت نے تاجروں کو رعایتی نرخ پر چینی فراہمی کے لئے ان سے رقم طلب کی گئی تھی جس پر سوات سے بھی چا لیس سے زائد چینی کا کاروبارکرنے والے افراد نے چھ کروڑ روپے جمع کرائے تھے۔سب سے زیادہ تحصیل کبل کے چونتیس تاجروں نے انتظامیہ کے ذریعے تین کروڑ انیس لاکھ روپے پنجاب حکومت کو جمع کرائے تھے تاکہ انہیں رعایتی نرخ پر چینی دی جاسکے اسی طرح مینگورہ شہر،خوازہ خیلہ اور دیگر علاقوں کے تاجروں نے بھی کروڑوں روپے دیکر رجسٹریشن کروالی،تاجروں کاکہنا ہے کہ پندرہ مہینے گزر گئے لیکن انہیں ابھی تک چینی کاسٹاک   فراہم نہیں کیا گیا جبکہ رقم کی واپسی کے لئے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں تک رسائی کی گئی لیکن وہ بھی بے سود رہی۔ تاجروں تاجروں نے صوبائی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں بشمول مراد سعید اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے اس معاملے  میں حکومت پنجاب کے ساتھ بات چیت کرنے کا مطالبہ کیا ہے بصورت دیگر انہوں نے سڑکوں پر نکلنے کی دھمکی دی ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے