کراچی (نمائندہ مانند) معروف اینکر اور ٹی وی میزبان اقرار الحسن نے دعویٰ کیا ہے کہ حساس ادارے کے ایک اہلکار کی
کرپشن بے نقاب کرنے پر انہیں اور ان کی ٹیم کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔مذکورہ واقعہ منظرِعام پر آنے کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) نے گریڈ 19 کے ایک ڈائریکٹر سمیت 5 عہدیداروں کو معطل کردیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں انہیں زخمی حالت میں ہسپتال میں دیکھا گیا۔
ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ہم ذہنی طور پر صدمے سے گزر رہے ہیں، ٹیم کے سارے اراکین کے کپڑے اتروا کر ان پر تشدد کیا گیا۔
ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ٹیم کے اراکین کو برہنہ کر کے نہ صرف ویڈیو بنائی گئی بلکہ نازک اعضا پر کرنٹ لگایا گیا۔
بعدازاں ایک اور ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر نے انہیں ہسپتال میں رہنے کی تجویز دی تھی البتہ میں کچھ بہتر محسوس کررہا ہوں اس لیے گھر جانا چاہتا ہوں۔
ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ہم ذہنی طور پر صدمے سے گزر رہے ہیں، ٹیم کے سارے اراکین کے کپڑے اتروا کر ان پر تشدد کیا گیا۔
ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ٹیم کے اراکین کو برہنہ کر کے نہ صرف ویڈیو بنائی گئی بلکہ نازک اعضا پر کرنٹ لگایا گیا۔
بعدازاں ایک اور ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر نے انہیں ہسپتال میں رہنے کی تجویز دی تھی البتہ میں کچھ بہتر محسوس کررہا ہوں اس لیے گھر جانا چاہتا ہدوسری جانب اے آر وائے ٹی وی کی ایک ٹوئٹر پوسٹ کے مطابق اقرار الحسن نے دعویٰ کیا کہ انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے ایک انسپکٹر کی بدعنوانی بے نقاب کرنے پر انہیں اور ان کی ٹیم کو برہنہ کر کے ویڈیوز بنائی گئیں اور دھمکایا گیا کہ اگر کرپشن کی ویڈیو منظرِ عام پر لائی گئی تو تمہاری ویڈیوز جاری کردی جائیں گی۔
اینکر کا کہنا تھا کرپشن بے نقاب کرنے پر ٹیم سرِ عام کو 3 گھنٹوں تک حبسِ بے جا میں رکھا گیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کے 2 اراکین کے اعضائے مخصوصہ کو بجلی کے جھٹکے لگائے گئے جو اس وقت شدید تکلیف میں ہیں اور علاج جاری ہے۔وں۔