لوئر دیر(مانند )ٹی ایم اے تیمرگرہ کے دو اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف ہفتہ کے روز ٹی ایم اے ملازمین، مقامی شہریوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال تیمرگرہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور لاشیں سڑک پر رکھ کر تیمرگرہ-چترال روڈ کو تقریباً دو گھنٹے تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رکھا،مظاہرین کا مؤقف تھا کہ ٹی ایم اے اہلکار صلاح الدین عرف راجا، سکنہ پیٹو درہ، اور سویپر وقار مسیح کو ٹریکٹر ٹرالی الٹنے کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے کے بعد بروقت ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم اس وقت ایمرجنسی یونٹ میں نہ تو ڈاکٹر موجود تھے اور نہ ہی نرسنگ عملہ، جس کے باعث دونوں زخمیوں کو فوری طبی امداد نہ مل سکی اور وہ زیادہ خون بہہ جانے کے باعث دم توڑ گئے۔احتجاج کے باعث سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔احتجاجی مظاہرے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما عالمزیب ایڈووکیٹ، پاکستان تحریک انصاف کے ملک کاشف کمال، جماعت اسلامی کے شعیب احمد اور محمد عثمان نے خطاب کیا۔ مقررین نے ہسپتال انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ہسپتال میں سروس ڈلیوری کا نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے اور طبی عملہ مریضوں کو بروقت علاج کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے۔انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے دونوں افراد غریب محنت کش تھے اور ان کی ہلاکت کی ذمہ داری متعلقہ ہسپتال عملے پر عائد ہوتی ہے۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔بعد ازاں سابق صوبائی وزیر محمود زیب خان، شہاب اتمان خیل اور ملک کاشف کمال نے مظاہرین کی نمائندگی کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کیے۔ انتظامیہ کی جانب سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر واجد علی، اسسٹنٹ کمشنر تیمرگرہ زرک خان اور ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر ابراہیم خان مذاکرات میں شریک ہوئے۔کافی دیر تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہوا، جس پر مظاہرین نے احتجاج ختم کرتے ہوئے سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا۔بعد ازاں دونوں متوفیان کی لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ صلاح الدین کو ان کے آبائی علاقے پیٹو درہ میں سپردِ خاک کیا گیا، جبکہ وقار مسیح کی تدفین سرکاری قبرستان میں کی گئی۔