پشاور(مانند نیوز) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ گورنر کسی ایک جماعت کا نہیں، پورے صوبیکا ہوتا ہے، گورنر کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ پورے صوبے کا گورنر ہے، اس صوبے کی مشکلات وفاق تک پہنچانا گورنر کی ذمہ داری ہے، گورنر وفاق کو بتادیں کہ ملک میں کسی ریڈ زون کو نہیں مانتے، آج ہم پشاور کے ریڈ زون میں دھرنا دے رہے ہیں، حکمرانوں کے ہوش ٹھکانے نہ آئے تو سراج الحق کے حکم پرکل اسلام آباد کے ریڈ زون آئیں گے۔آئی ایم ایف اور ولڈ بینک کا کوئی مطالبہ ہمیں منظور نہیں ہے،ہم آئی ایم ایف کی غلامی نہیں چاہتے، نگران وزیراعظم مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کریں، سیکورٹی ادارے خیبر پختونخوا کے عوام کے شناختی کارڈ چیک کرنے کا کام بخوبی انجام دے رہے ہیں۔خیبرپختونخوا میں ہر جگہ سڑکوں پر ناکے بنائے گئے ہیں اور ہر جگہ عوام کی تلاشی لی جارہی ہے، اٹک کا پُل کراس کرجائیں تو پھر کوئی ناکہ نہیں ہوتا،معلوم نہیں صوبے کے عوام کو کیوں تنگ کیا جاتا ہے۔ہم ان چیک پوائنٹس کا خاتمہ کریں گے،پولیس کو لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس صوبے کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرنے دینگے، ہم چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کا کوئی فیصلہ قران کی تعلیمات کے منافی نہ ہو، صوبے کے کینٹس میں عوامی گزر گاہوں کو دیواریں کھڑی کرکے بند کردیا گیا ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان کیوں دیواریں کھڑی کی گئی ہیں۔ جنرل مشرف کی پالیسیاں آج بھی جاری ہیں۔ بجلی کے بلوں اور نگران حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں تیسری بار اضافہ مسترد کرتے ہیں۔ہماری تحریک جاری رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر بجلی بلوں، مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ نگران وزیراعظم بجلی اور تیل کی قیمتوں میں کمی نہ لاسکے۔ ایک مہینے کے دوران تیل کی قیمتوں میں 58 روپے سے زیادہ اضافہ کیا گیاہے۔نگران حکومت نے مصنوعی اضافہ کیا ہے۔وزیراعظم مہنگائی ختم کریں ورنہ ان کا گریبان ہوگا اورعوام کا ہاتھ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ صوبے میں کھربوں یونٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، ایک روپے سے بھی کم میں فی یونٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ضرورت ایماندار قیادت کی ہے جو اس منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ انھوں نے کہا کہ کسی ائیرپورٹ کے راستے میں کوئی فوجہ چیک پوسٹ نہیں ہے لیکن ہمارے ائیرپورٹ کے راستے میں تین چیک پوسٹیں بنائی گئی ہیں جس کی وجہ سے مسافروں کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اور ان کی پروازیں تاخیر کا شکار یا ضائع ہوجاتی ہیں۔ فوجی جوانوں کو بیرکوں میں بھیجا جائے۔ سول ایوی ایشن اور ائیرپورٹ سیکورٹی فورس ان معاملات کے لیے کافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آئین کی دفعہ 227 کا اطلاق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس پر بھی اس کا اطلاق یقینی بنائیں۔ کسی بھی عدالت کا کوئی بھی فیصلہ قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے تمام فیصلے انگریزی کی بجائے اردو زبان میں ہونے چاہئیں۔انھوں نے کہا کہ اس وقت اقتدار چور اور لٹیروں کے پاس ہے۔ جماعت اسلامی ان لٹیروں کے ساتھ حساب کرنے کے لیے میدان میں ہے۔ عوام صادق و امین قیادت منتخب کریں گے تو ان کے مسائل حل ہوں گے، چوروں اور لٹیروں کو ووٹ دیں گے تو کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا منشور پاکستان کو مدینہ کی اسلامی ریاست بنانا۔ ان شاء اللہ پاکستان کو مدینہ کی اسلامی ریاست بنا کر دم لیں گے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے