اسلام آباد (مانند نیوز): چیٔرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر مستحق خواتین کی سہولت، شفافیت اور باوقار ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل والٹ کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت بینظیر کفالت پروگرام کی رقوم براہِ راست مستحقین کے ڈیجیٹل والٹ میں منتقل کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امدادی رقم میں کٹوتی یا بدعنوانی کرنے والے عناصر کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وہ منگل کو بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں سرکاری فیس بک پیج کے ذریعے منعقدہ لائیو ای کچہری سے خطاب کر رہی تھیں، جس میں ملک بھر سے مستحق خواتین نے فون کالز کے ذریعے اپنے مسائل اور سوالات پیش کیے۔ روبینہ خالد نے کہا کہ نئے ڈیجیٹل والٹ نظام کا مقصد خواتین کو لمبی قطاروں، غیر ضروری رش اور انتظار کی زحمت سے نجات دلانا اور ادائیگی کے عمل کو مزید محفوظ، آسان اور شفاف بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر نئے نظام کی طرح ابتدائی مرحلے میں بعض مشکلات آ سکتی ہیں، تاہم وقت کے ساتھ یہ نظام مزید مؤثر ہو جائے گا اور آئندہ خواتین اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی مجاز بینک ریٹیلر شاپ سے رقم حاصل کر سکیں گی۔چیٔرپرسن بی آئی ایس پی نے خواتین کو ہدایت کی کہ جن مستحقین نے ابھی تک بینظیر سم حاصل نہیں کی، وہ فوری طور پر اپنے قریبی بی آئی ایس پی دفتر سے مفت سم حاصل کریں، کیونکہ امدادی رقم صرف اسی سم سے منسلک ڈیجیٹل والٹ میں منتقل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سم لیتے وقت اصل قومی شناختی کارڈ اور ذاتی موبائل فون ساتھ لائیں اور عملے سے کہیں کہ سم وہیں موبائل میں نصب کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ رقم منتقل ہونے پر متعلقہ بینک کی جانب سے ایس ایم ایس موصول ہوگا، جبکہ رقم وصول کرنے کے بعد بھی تصدیقی پیغام آئے گا، جس کے ذریعے خواتین منتقل اور وصول کی گئی رقم کی تصدیق کر سکیں گی۔ روبینہ خالد نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ریٹیلر امدادی رقم میں کٹوتی کرے یا پوری رقم ادا نہ کرے تو خواتین فوری طور پر اپنی مکمل رقم کا مطالبہ کریں اور بی آئی ایس پی ہیلپ لائن یا قریبی دفتر میں شکایت درج کرائیں۔انہوں نے خواتین کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اپنا موبائل فون کسی بھی صورت ریٹیلر یا کسی دوسرے شخص کے حوالے نہ کریں، کیونکہ ادائیگی کے لیے صرف اصل شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق کافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موبائل فون اپنے پاس رکھنے سے ایس ایم ایس اور شکایات سے متعلق معلومات محفوظ رہتی ہیں۔ چیٔرپرسن نے کہا کہ امدادی رقم ڈیجیٹل والٹ میں محفوظ رہے گی، اس لیے خواتین پر فوری رقم نکلوانے کی کوئی پابندی نہیں۔ وہ ہفتہ اور اتوار سمیت اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی وقت مجاز بینک ریٹیلر سے رقم وصول کر سکتی ہیں، تاہم کسی شخص کے گھر یا غیر مجاز مقام سے رقم ہرگز نہ لیں۔انہوں نے مستحق خواتین سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں بلکہ معلومات اور رہنمائی کے لیے صرف بی آئی ایس پی کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، قریبی دفتر یا ہیلپ لائن 0800-26477 سے رابطہ کریں۔ای کچہری کے دوران خواتین نے مختلف مسائل سے آگاہ کیا، جس پر چیٔرپرسن نے متعلقہ افسران کو فوری کارروائی اور بروقت حل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خاتون کو دھمکیوں یا افواہوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ کسی فرد کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی مستحق خاتون کی امدادی رقم بند کر سکے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کرائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جا سکے

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے