اسلام آباد (مانند نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی نے سانحۂ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ فوراً پبلک کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے شواہد ختم کرنے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ خدشہ ہے کہ شواہد کو مٹا نہ دیا جائے ، پمز کو 3 سال میں 22 ارب روپے ملے، وہ پیسہ کہاں لگا؟ آڈٹ کرایا جائے، یہ سب گٹھ جوڑ ہے، شفاف تحقیقات کیسے ہوں گی؟
انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ چھوٹے افسران پر ملبہ ڈال دیا جائے گا اور بڑے حکام کو بچایا جائے گا جو اصل ذمے دار ہیں۔
پلوشہ خان کا کہنا ہے کہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پمز رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے کہا کہ پمز سانحے میں ماؤں کے دکھ کا کوئی مداوا نہیں۔
پیپلز پارٹی کی خواتین سینیٹرز نے کہا کہ حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیمِ نو ترمیمی بل واپس لے لیا ہے۔
واضح رہے کہ سانحۂ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیرِ اعظم شہباز شریف کو پیش کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کے سربراہ سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان نے رپورٹ جمع کروائی ہے۔