پشاور (مانند نیوز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کے علاج کے حوالے سے حکم جاری کیا تھا کہ ان کا علاج شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کی بہن اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں کیا جائے، تاہم بدقسمتی سے وفاقی حکومت نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عدالتی حکم پر عملدرآمد کے نام پر فراڈ کیا اور عمران خان کو رات کے اندھیرے میں تمام لائٹس بند کرکے جعلی طریقے سے ہسپتال لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت وفاقی حکومت کی نگرانی میں خراب ہوئی ہے کیونکہ جب عمران خان کو ناحق گرفتار کیا جا رہا تھا تو ان کی حالت اور صحت بالکل ٹھیک تھی اور وہ سپر فٹ تھے، تاہم انہیں مسلسل آٹھ، نو ماہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔ اس دوران ان کی فیملی، ذاتی ڈاکٹرز، وکلا اور دوست ان سے ملاقات نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی کے ساتھ ایسا رویہ کبھی نہیں دیکھا گیا اور عمران خان کی صحت کے مسائل بھی اسی رویے کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال حکومت کے لیے ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عمران خان کی صحت کے حوالے سے انتہائی تشویش کا اظہار کرتی ہے اور عدالتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان کے حوالے سے جاری احکامات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنا عدلیہ اور ججز کی توہین ہے۔ تمام پاکستانی عدالتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اگر عدالتیں اپنے احکامات پر عملدرآمد نہیں کروا سکتیں تو پھر عدالتیں کس کام کے لیے ہیں؟ عدالتوں نے انصاف کرنا اور اپنے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں خواتین کے لیے ای وی بائیکس اسکیم متعارف کرائی جا رہی ہے۔ کالجز اور یونیورسٹیز جانے والی طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے ای وی بائیکس فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ای وی بائیکس اسکیم کا پہلا فیز بہت جلد شروع کیا جائے گا اور بائیکس خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر فراہم کی جائیں گی۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ای وی بائیکس کے بعد حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے ای وی رکشوں کی اسکیم بھی متعارف کرائی جائے گی، جو صوبے میں صاف اور سرسبز ماحول کے فروغ کے لیے ایک بہترین اقدام ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں الیکٹرک بسز کی اسکیم پر کام تیز کرنے کی ہدایت پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے ڈی پی میں شامل تمام ایسی اسکیموں پر کام تیزی سے کیا جائے جن سے صوبے کی عوام کو فائدہ پہنچنا ہے۔ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ بیوروکریٹک رکاوٹوں اور سیاسی غفلت سے بالاتر ہو کر آؤٹ آف دی باکس اقدامات کرنا ہوں گے اور ترقیاتی منصوبوں کو بہترین انداز میں ڈیلیور کرنا ہوگا تاکہ عوام ان سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رواں مالی سال خیبرپختونخوا کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا۔