بٹ خیلہ (مانند نیوز): ضلع ملاکنڈ کے علاقے پل چومی میں دن دہاڑے ڈکیتی اور اغوا کی ایک سنسنی خیز واردات میں پانچ مسلح ملزمان نے ایک کرنسی ڈیلر اور اس کے ساتھی کو یرغمال بنا کر 5 کروڑ 9 لاکھ روپے، گاڑی، موبائل فون اور لائسنس یافتہ پستول چھین لیا، جبکہ دونوں مغویوں کو پشاور کے نواحی علاقے میں کھیتوں میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ ملاکنڈ لیویز نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ لیویز پوسٹ پل چومی میں درج ایف آئی آر کے مطابق امانکوٹ سوات کے رہائشی رحمت علی نے بتایا کہ وہ ہنڈی کا کاروبار کرتا ہے۔ گزشتہ روز وہ اپنے ساتھی محمد فیاض کے ہمراہ 10 کروڑ 25 لاکھ 50 ہزار روپے گاڑی میں رکھ کر سوات جا رہے تھے۔ راستے میں پی ایس او پمپ کے قریب انہوں نے دو افراد کو 5 کروڑ 16 لاکھ روپے حوالہ کیے، جس کے بعد باقی رقم لے کر تیمرگرہ کے رہائشی عمران کو ادائیگی کے لیے گاڑی روکی۔ مدعی کے مطابق اسی دوران ایک کار میں سوار پانچ مسلح افراد، جن میں ایک پولیس جیسی وردی پہنے ہوئے تھا، موقع پر پہنچے اور اسلحے کے زور پر انہیں یرغمال بنا لیا۔ ملزمان نے گاڑی میں موجود 5 کروڑ 9 لاکھ روپے اپنے قبضے میں لے لیے۔ رحمت علی کے مطابق ایک ملزم اس کی گاڑی چلا کر روانہ ہوا، جبکہ اس کے ساتھی محمد فیاض کو دیگر چار ملزمان اپنی گاڑی میں بٹھا کر موٹروے کے راستے لے گئے۔ ملزمان بخشالی انٹرچینج سے جی ٹی روڈ پر نکلے اور چارسدہ کے راستے پشاور پہنچ کر دونوں افراد کو کھیتوں میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔مدعی نے بتایا کہ دوران واردات ملزمان نے اس کے ساتھی کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور اس سے موبائل فون، نقد رقم اور دیگر دستاویزات چھین لیں، جبکہ اس کا لائسنس یافتہ پستول بھی ساتھ لے گئے۔ واردات میں استعمال ہونے والی اس کی گاڑی بھی ملزمان اپنے ساتھ لے گئے۔رحمت علی نے لیویز کو بیان دیا کہ وہ ملزمان میں سے افسر علی ولد سردار علی سکنہ پڑانگ ضلع چارسدہ، حافظ عرف حمزہ ولد صادق سکنہ پشاور اور محمد وقار ولد کریم سکنہ رستم مردان کو تصاویر دیکھ کر شناخت کر چکا ہے، جبکہ دیگر دو ملزمان کو سامنے آنے پر پہچان سکتا ہے۔ملاکنڈ لیویز نے نامزد اور نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ملزمان اور لوٹی گئی رقم و گاڑی کی بازیابی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں