ایبٹ آباد (مانند نیوز)بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر مکالمہ کے لئے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔جس میں اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد احمد مغیث،ڈسٹرکٹ خطیب مفتی عبدالواجد،مولانا شکیل الرحمن،سنگی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے ریجنل کوآرڈینیٹر شاہد عزیز تنولی، ذاکر پال ایڈووکیٹ،پادری رفیق جاوید آواز دو پروگرام کی کوآرڈنیٹر ثمینہ بی بی کے علاوہ کرسچن،ہندو،سکھ کمیونٹی کے افراد کثیر تعداد میں شریک تھے۔تقریب میں سنگی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام آواز دو پروگرام کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے مکالمہ میں مختلف مذاہب کے افراد نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ضلعی خطیب مفتی عبدالواجد کا کہنا تھا امن امان کے ساتھ رہنا تمام مذاہب کے افراد کی ضرورت یے۔بین المذاہب ہم آہنگی پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں ہونی چائیے۔ جہاں جس بھی مذہب کی اقلیت ہو۔ وہاں اکثریت ان کے حقوق کا تحفظ ہے۔ہرفرد کا اپنا مذہب ہے جس میں اس کے مطابق آذادی حاصل ہے۔کرسچن کمیونٹی کے بابو جان کا کہنا تھا مذہب راستہ ہے۔جب کہ منزل ایک ہی ہے مل جل کر ایک دوسرے کیعقیدہ احترام کریں۔تقریب میں ایسوسی ایشن آف چرچز کے زاکر پال ایڈووکیٹ،پادری رفیق جاوید،ہندو کمیونٹی کے درشن لال،سکھ کمیونٹی کیاتم سنگھ،کرسچن کمیونٹی کے وقار گل اور دیگر اظہار خیال کیا۔اقلیتی کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا ملک کی تعمیر وترقی میں اقلیتی رہنماؤں کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ملک کی پہلی قانون ساز اسمبلی کاسپیکر ہندو تھا اور پنجاب کو پاکستان کے ساتھ کرنے کے ووٹ میں کرسچن کمیونٹی کے ووٹ نے کلیدی کردار ہے۔اگر ملک کی تاریخ صیح معنوں میں لکھی جاتی یا نصاب کا حصہ بنایاجاتا تو زیادہ محنت کی ضرورت نہ پڑتی۔یہاں اس بات پر زور دیا گیا اقلیت نے ملک کے قیام،دفاع میں جو قربانیاں دی ہیں ان کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔تاکہ نئی نسل کو آگہی حاصل ہو سکے۔انہوں نے سرکاری ملازمت میں پانچ فیصد کوٹہ پر بھی عملدرآمد کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔اور اس کے علاؤہ سیاسی عمل میں اقلیتیوں کی مؤثر شرکت بطور نمائندہ رکھنے کی بھی تجاویز دی ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر احمد مغیث کا کہنا تھا صحت مند معاشرے کے فروغ کے لئے تعلیم کی ایک بڑی اہمیت ہے۔مذاہب میں کوئی جبر نہیں ہے۔بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کا مکالمہ ایک بہترین فیصلہ ہے۔ اس کے زریعے ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے میں معاونت ہوگی۔ضلعی انتظامیہ بلاتفریق شہریوں کو حقوق کے تحفظ کے لئے اپنا کام جا ری رکھے گی۔ریجنل کوآرڈنیٹر سنگی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن شاہد عزیز تنولی نے مسلم اور کرسچن کمیونٹی کے رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے مساجد اور چرچز میں شہریوں کی آگہی کے لئے بات کی جائے۔