اسلام آباد (مانند نیوز) سائنس دانوں نے عالمی حدت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے سورج کی روشنی کم کرنے کے متنازع اسٹریٹوسفیرک ایروسول انجیکشن (SAI) منصوبے سے متعلق نئے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے کے تحت فضا کی بالائی تہہ میں باریک ایروسول ذرات چھوڑے جائیں گے تاکہ سورج کی حرارت کا کچھ حصہ واپس خلا میں منعکس ہو جائے، تاہم اس کے سنگین ماحولیاتی اور صحت سے متعلق نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
رٹگرس یونیورسٹی کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ فضا میں سلفیورک ایسڈ کے قطروں سے بننے والے سلفیٹ ذرات کمرشل طیاروں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جبکہ مسافروں کو زہریلے کیمیکلز کی مضر مقدار کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ ایلن رونوک کے مطابق اسٹریٹوسفیر میں بارش نہیں ہوتی، اس لیے وہاں چھوڑے گئے زہریلے ذرات زمینی فضا کے مقابلے میں تقریباً 50 گنا زیادہ عرصے تک موجود رہ سکتے ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ سلفر ڈائی آکسائیڈ (SO₂) سانس کی نالی کو شدید متاثر کرنے والا کیمیائی مادہ ہے، جس کی زیادہ مقدار کھانسی، سانس لینے میں دشواری، گھرگھراہٹ اور دیگر مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
دوسری جانب کولمبیا کلائمٹ اسکول کے محققین نے بھی خبردار کیا ہے کہ سورج کی روشنی کم کرنے کے لیے اسٹریٹوسفیرک ایروسول انجیکشن (SAI) کا استعمال دنیا بھر کے موسمی نظام میں ناقابلِ واپسی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق زمین کے درجۂ حرارت میں تقریباً 0.6 سے 1 ڈگری سینٹی گریڈ کمی لانے کے لیے فضا کی بالائی تہہ میں تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ ٹن سلفر ڈائی آکسائیڈ خارج کرنا پڑ سکتی ہے۔