پشاور (مانند) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور اکرام اللہ خان کے ہمراہ ڈائریکٹوریٹ آف پراسیکیوشن، خیبرپختونخوا، پشاور کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پراسیکیوشن محمد رفیق خان مہمند اور ڈائریکٹوریٹ کے سینئر افسران نے ان کا استقبال کیا۔دورے کے دوران معاونِ خصوصی طارق سعید مروت نے خیبرپختونخوا لیگل ایڈ ایکٹ 2019 کے تحت قائم لیگل ایڈ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پراسیکیوشن نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں مستند وکلاء کا پینل تشکیل دیا جا چکا ہے، جو فوجداری اور عائلی مقدمات میں مستحق افراد کو مفت قانونی معاونت فراہم کرے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لیگل ایڈ یکم جولائی 2026 سے باقاعدہ فعال ہو چکی ہے، جو صوبے میں انصاف تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔وفد کو محکمہ پراسیکیوشن کے مینڈیٹ، تنظیمی ڈھانچے، مجموعی کارکردگی، ادارہ جاتی اصلاحات، مقدمات کے مؤثر انتظام، سزا کی شرح میں بہتری اور فوجداری نظامِ انصاف کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر معاونِ خصوصی طارق سعید مروت نے محکمہ پراسیکیوشن کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیت، لگن اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ پراسیکیوشن فوجداری نظامِ انصاف کا ایک اہم ستون ہے اور پراسیکیوٹرز قانون کی حکمرانی، شفافیت اور انصاف کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کے وژن اور ہدایات کے مطابق صوبائی حکومت فوجداری نظامِ انصاف کو جدید خطوط پر استوار کرنے، متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو فروغ دینے اور عوام کو بروقت، شفاف اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ پراسیکیوشن کی ادارہ جاتی استعداد کار میں مزید اضافہ، نظامِ انصاف کی جدید خطوط پر بہتری اور مستحق و نادار شہریوں کو مفت قانونی معاونت کی فراہمی کو مزید وسعت دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ڈائریکٹر جنرل پراسیکیوشن محمد رفیق خان مہمند نے معاونِ خصوصی طارق سعید مروت کی آمد، حوصلہ افزائی اور محکمہ پراسیکیوشن کو مضبوط بنانے اور صوبے بھر میں مفت قانونی معاونت کی فراہمی کے اقدامات کے لیے مسلسل تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔