شانگلہ (مانند نیوز) ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف عوامی ردعمل شدت اختیار کر گیا۔ شانگلہ کے تحصیل پورن کے مرکزی تجارتی بازار آلوچ بازار میں مختلف سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں، وکلاء، ٹرانسپورٹرز، مزدوروں، کسانوں، نوجوانوں، عمائدین علاقہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی جانب سے ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجسمیں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے حکومت کے مجوزہ ٹیکس اقدامات کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ملاکنڈ ڈویژن کی تاریخی ٹیکس فری حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو احتجاجی تحریک پورے خطے میں پھیل جائے گی۔احتجاجی ریلی آلوچ بازار کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی مرکزی چوک پہنچی جہاں ایک بڑے عوامی اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ”ملاکنڈ ڈویژن کی ٹیکس فری حیثیت بحال رکھو”، ”ظالمانہ ٹیکس نامنظور”، ”پسماندہ علاقوں پر معاشی بوجھ بند کرو” اور دیگر نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ ٹیکسوں کے نفاذ سے متعلق تمام فیصلے فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کو خصوصی آئینی اور قانونی حیثیت حاصل ہے اور یہاں کی ٹیکس فری پوزیشن کسی حکومتی احسان کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک تاریخی اور قانونی حقیقت ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ حکومت اس حیثیت کو ختم کرکے لاکھوں عوام کے معاشی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔مقررین نے کہا کہ شانگلہ سمیت پورا ملاکنڈ ڈویژن گزشتہ کئیدہائیوں کے دوران دہشت گردی، بدامنی، فوجی آپریشنز اور قدرتی آفات سے شدید متاثر ہوا ہے۔ ان حالات نے یہاں کے کاروبار، زراعت، سیاحت، تعلیم اور روزگار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے، بے شمار کاروبار بند ہوئے جبکہ آج بھی خطے کے نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں۔ مقررین نے کہا کہ حالیہ موسلادھار بارشوں، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے شانگلہ سمیت ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع میں سڑکوں، پلوں، آبنوشی کے منصوبوں، زرعی زمینوں اور رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہیں۔ کئی علاقوں میں لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ حکومت متاثرین کی مکمل بحالی میں بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ ایسے میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے نئے ٹیکس نافذ کرنا انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول اقدام ہے۔مقررین نے کہا کہ موجودہ مہنگائی نے پہلے ہی عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی قوت خرید ختم کر دی ہے۔ ایسے حالات میں مزید ٹیکس عائد کرنے کا مطلب غریب عوام کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پسماندہ علاقوں میں صنعتوں کے قیام، سیاحت کے فروغ، نوجوانوں کے لیے روزگار، بہتر تعلیم، معیاری صحت کی سہولیات اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی پر توجہ دے، نہ کہ نئے مالی بوجھ مسلط کرے۔مقررین نے واضح کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اپنے آئینی اور معاشی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اگر حکومت نے عوامی جذبات کو نظرانداز کرتے ہوئے ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ برقرار رکھا تو احتجاجی تحریک شانگلہ سے نکل کر پورے ملاکنڈ ڈویژن میں پھیل جائے گی۔ انھوں نے اعلان کیا کہ تمام اضلاع، تحصیلوں اور بازاروں میں مشترکہ عوامی جلسے، احتجاجی مظاہرے، شٹر ڈاؤن ہڑتالیں اور دیگر جمہوری اقدامات کیے جائیں گے۔احتجاج کے شرکاء نے متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن کی تاریخی ٹیکس فری حیثیت کو برقرار رکھا جائے، نئے ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے، قدرتی آفات اور دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع کے لیے خصوصی معاشی و ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا جائے، تباہ حال سڑکوں اور پلوں کی تعمیر نو، صحت و تعلیم کی سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر مظاہرین نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے آئینی، قانونی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے