تیمرگرہ( رحمت اللہ سواتی سے)ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کا نفاذ کسی صورت قبول نہیں، حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو تاریخی شٹر ڈاؤن ہڑتال کریں گے، حاجی انوارالدین۔
ڈسٹرکٹ پریس کلب تیمرگرہ کے زیر اہتمام عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور متعلقہ اداروں تک عوام کی آواز پہنچانے کے لیے شروع کیے گئے پروگرام “عوام کی پکار” کی پہلی نشست سے خطاب کرتے ہوئے انجمن تاجران تیمرگرہ کے صدر حاجی انوارالدین نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کا نفاذ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور تاجر برادری اپنے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس موقع پر انجمن تاجران کے رہنما سید ناصر شاہ اور ظاہر شاہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
حاجی انوارالدین نے کہا کہ جمعہ کے روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل افریدی کے ساتھ انجمن تاجران اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی ایک اہم مشاورتی نشست طے ہے، جس میں ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی حیثیت، ٹیکس کے نفاذ اور تاجروں کے تحفظات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کے نتیجے میں عوامی توقعات کے مطابق فیصلہ نہ ہوا تو اس کے بعد پورے ملاکنڈ ڈویژن میں ایسی مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی جس کی مثال ماضی میں نہیں ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن ایک پسماندہ خطہ ہے جہاں نہ بڑی صنعتیں ہیں، نہ فیکٹریاں اور نہ ہی کاروباری مواقع دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی معیشت کا بڑا حصہ بیرون ملک، خصوصاً خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کرنے والے افراد کی ترسیلات زر پر قائم ہے، جن کی بدولت محدود سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں برقرار ہیں۔ ایسے حالات میں نئے ٹیکس عائد کرنا عوام اور تاجروں پر ناقابل برداشت معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دہشت گردی، فوجی آپریشنز، سیلاب، زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات سے شدید متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں یہاں کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے اس خطے کو خصوصی ریلیف دینے کے بجائے ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔
حاجی انوارالدین نے کہا کہ پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد سابقہ فاٹا کے انضمام کی آڑ میں ملاکنڈ ڈویژن کی تاریخی آئینی و مالی مراعات اور خصوصی تشخص کو بھی متاثر کیا گیا، حالانکہ ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی حیثیت الگ تھی۔ انہوں نے کہا کہ منتخب عوامی نمائندے اس اہم مسئلے پر ایوانوں میں مؤثر انداز میں مقدمہ پیش کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ سے آج عوام کو یہ صورتحال دیکھنا پڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاجر برادری نے ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کیا ہے اور ملکی معیشت میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے، تاہم حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن کے زمینی حقائق، معاشی پسماندگی، بے روزگاری اور کاروباری مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے تاجروں کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملاکنڈ ڈویژن کی تمام تاجر تنظیمیں، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز اور عوام مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے بھرپور احتجاج کریں گے۔
خطاب کے دوران حاجی انوارالدین نے ڈسٹرکٹ پریس کلب تیمرگرہ کے صدر حلیم اسد اور کابینہ کو “عوام کی پکار” پروگرام کے آغاز پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے اور متعلقہ اداروں تک پہنچانے کے لیے ایک قابل تحسین پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تیمرگرہ کے صحافی ہمیشہ مثبت، ذمہ دار اور عوام دوست صحافت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں اور عوامی مسائل کو اجاگر کرکے معاشرے کی خدمت کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام مستقبل میں بھی عوام اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کا ذریعہ بنے گا اور مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا۔