پشاور(مانند نیوز)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سابقہ فاٹا اور پاٹا پر عائد کیے گئے ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف وہ صوبے کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس ناانصافی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان بارڈر ٹریڈ کونسل کے زیر اہتمام صوبے کے صنعت کاروں کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی قیادت خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے گروپ لیڈر اور پاکستان بارڈر ٹریڈ کونسل کے چیئرمین سید جواد حسین کاظمی کر رہے تھے۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر محمد علی شاہ باچا، مہمند چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی امیر خان، شمالی وزیرستان چیمبر آف کامرس کے بانی صدر حاجی قدیر اللہ وزیر، مالاکنڈ چیمبر آف کامرس کے صدر انعام اللہ خان، چترال چیمبر آف کامرس کے صدر مہتاب اعظم، ایگزیکٹو ممبر سید طاہر عباس اور خیبر چیمبر آف کامرس کے سینئر اراکین بھی موجود تھے۔ وفد نے یکم جولائی سے وفاقی حکومت کی جانب سے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے ممکنہ منفی اثرات، کاروباری سرگرمیوں پر اس کے نتائج اور اپنے تحفظات سے گورنر کو آگاہ کیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہمارے صوبے، بالخصوص ضم شدہ اضلاع، میں امن و امان کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ ایسے حالات میں ایف بی آر کی جانب سے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے نئے ٹیکسوں کا نفاذ صوبے کے عوام اور کاروباری طبقے پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھی وفاقی حکومت کو ان خدشات سے آگاہ کر چکے ہیں اور اس معاملے پر صوبائی حکومت سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور تمام متعلقہ اداروں کو متحد ہو کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ صوبے کے عوام اور کاروباری برادری کے مفادات کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے. گورنر نے کہا کہ اس معاملے پر وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ انہوں نے چکدرہ میں حالیہ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر محمد علی شاہ باچا کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سی این جی اور گندم کے معاملات پر بھی تمام متعلقہ حلقوں نے مل کر کام کیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق سے ملنے والے وسائل ماضی کی صوبائی حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث مؤثر انداز میں استعمال نہیں ہو سکے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت اپنے دائرۂ اختیار میں عائد کیے گئے ظالمانہ ٹیکس فوری طور پر واپس لے اور وفاق سے مذاکرات کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو صوبے کے وسیع تر مفاد میں اس معاملے پر متحد ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ صوبے کو ایڈہاک بنیادوں پر چلانے کے بجائے ایک مستقل مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے جو اہم مسائل کا جامع جائزہ لے اور ان کے پائیدار حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں سے قرضوں کے حصول میں درپیش مشکلات کے حوالے سے کاروباری برادری اپنی تجاویز پیش کرے، جنہیں متعلقہ فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔ گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجر اور صنعت کار دہشت گردی، بدامنی اور بھتہ خوری جیسے سنگین مسائل کے باوجود کاروباری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں کاروبار کو برقرار رکھنا کسی جہاد سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر، مالاکنڈ اور مہمند میں صوبے کی بڑی صنعتیں قائم ہیں اور ان نئے ٹیکسوں کے منفی اثرات صرف ان علاقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے صوبے کی معیشت اور کاروباری برادری متاثر ہوگی۔ گورنر نے ضم شدہ اضلاع کے لیے مختص نشستوں پر ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے طلبہ کو داخلوں میں درپیش مشکلات کے حوالے سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے حکام سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر محمد علی شاہ باچا نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس مسئلے پر صفِ اول میں کھڑی ہے۔ صوبے کی تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر یکجہتی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح وفاقی حکومت کے عائد کردہ ٹیکسوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کی جا رہی ہے، اسی طرح صوبائی حکومت کے ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف بھی مؤثر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ وفد نے سابقہ فاٹا اور پاٹا کے عوام کے حقوق کے تحفظ، صوبے کے مفادات کے مؤثر دفاع اور اس اہم قومی معاملے پر بھرپور نمائندگی کرنے پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی کاوشوں اور کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔#



By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے