تہران(مانند نیوز)ایران نے جمعہ کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج میں واقع امریکی تنصیبات پر تازہ حملے کیے۔ یہ کارروائیاں ایرانی فوجی تنصیبات پر امریکہ کے مسلسل چھٹے روز کے حملوں کے بعد سامنے آئیں جس سے گزشتہ ماہ طے پانے والی جنگ بندی عملاً ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور صورتحال روزانہ کے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلے میں تبدیل ہوچکی ہے۔

امریکی فوج نے بتایا کہ اس نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے لیے مسلسل ایک اور رات فضائی حملے کیے۔ ان کارروائیوں میں قشم جزیرہ اور بندر عباس کے نواحی علاقے بھی نشانہ بنے جہاں ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب کے اہم فوجی اڈے قائم ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کے ذریعے ایران کے درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، ان اہداف میں ساحلی نگرانی اور فضائی دفاعی تنصیبات، فوجی لاجسٹک ڈھانچہ اور بحری جنگی صلاحیتوں سے متعلق مراکز شامل تھے۔

ایران نے ہمسایہ ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں جن میں اردن کا ایک فضائی اڈہ بھی شامل ہے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔

جمعہ کی علی الصبح ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

ایک عینی شاہد کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کئی دھماکوں جیسی آوازیں سنی گئیں جبکہ قطری وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ شیل یا میزائل کے ٹکڑے لگنے سے ایک بچہ زخمی ہو گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کی تازہ لہر میں پانچ پلوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ساحلی شہر بندر خمیر کا ریلوے اسٹیشن اور جنوب مشرقی ایران میں واقع ایرانشہر ہوائی اڈہ بھی حملوں کی زد میں آئے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق جنوبی ایران کے بندرگاہی شہر بندر خمیر میں پلوں پر ہونے والے امریکی حملوں میں 7 افراد مارے گئے۔

رائٹرز ان اطلاعات کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے