اورکزئی (نمایندہ مانند) قبائلی اضلاع کے ساتھ امتیازی سلوک کب تک پچیسویں آئینی ترمیم کے تحت قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں، مگر افسوس کہ آج بھی قبائلی عوام اپنے بنیادی حقوق، جائز معاوضوں اور بقایا سروے چیکس سے محروم ہیں۔
سیاسی و سماجی رہنماء سعید خان اورکزئی کا صحافیوں سے گفتگو اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت بارہا دعویٰ کرتی ہے کہ قبائلی اضلاع اب صوبے کا مکمل حصہ ہیں، لیکن زمینی حقائق اس دعوے کے برعکس ہیں۔ اگر واقعی قبائلی اضلاع مکمل طور پر ضم ہو چکے ہیں، تو پھر ہمارے سروے چیکس اور معاوضے کیوں رکے ہوئے ہیں۔اگر مسئلہ فنڈز کی عدم دستیابی ہے، تو سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی حکومت نے صرف قبائلی عوام کے حقوق ہی روک رکھے ہیں؟ اگر وسائل کی کمی ہے، تو دیگر ترقیاتی منصوبے کیسے جاری ہیں۔ضلع خیبر (تیراہ) کے متاثرین کے لیے 4 ارب روپے اور ضلع کرم کے متاثر خاندانوں کے لیے خصوصی پیکیجز دیے جا سکتے ہیں، تو دیگر قبائلی اضلاع کے متاثرین کو کیوں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔قبائلی عوام نے امن، وطن اور ریاست کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے گھر تباہ ہوئے، بازار اجڑے، مسجدیں ویران ہوئیں، مگر آج بھی ہمیں اپنے ہی جائز حق کے لیے احتجاج اور آواز بلند کرنا پڑ رہی ہے۔ہم حکومتِ پاکستان، وفاقی و صوبائی قیادت سے واضح مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام بقایا سروے چیکس فوری طور پر جاری کیے جائیں۔قبائلی اضلاع کے لیے فنڈز کی منصفانہ، شفاف اور برابری کی بنیاد پر تقسیم یقینی بنائی جائے۔تمام متاثرین کو بلا تفریق یکساں ریلیف اور معاوضہ فراہم کیا جائےقبائلی عوام مزید تاخیر، جھوٹے وعدوں اور امتیازی سلوک کو قبول نہیں کریں گے۔ ہمیں خیرات نہیں، اپنا آئینی حق، انصاف اور برابری چاہیے۔اگر 10 مئی تک ہمارے جائز مطالبات پورے نہ کیے گئے، تو 11 مئی سے بھرپور احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا، اور یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہمارے تمام مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے
0





