پشاور (مانند نیوز ڈیسک) رمضان المبارک کے تیسرے اور آخری عشرے میں تاجروں اور دکانداروں نے مہنگائی کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔مہنگائی کو کنٹرول کر نے میں انتظامیہ بے بس رہی جبکہ فوٹو سیشن کا سلسلہ بھر پور طریقے سے جاری رہا۔تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کے آغاز سے مہنگائی کا آنے والا طوفان تھم نہ سکا اور تیسرے عشرے میں دکانداروں اور تاجروں نے رہی سہی تمام کسر نکال دی اور مہنگائی کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ ڈالے جس کے باعث غریب اور متوسط طبقے کی قوت خرید مکمل جواب دے گئی۔نئے کپڑوں کے بجائے پرانے کپڑوں اور جوتوں کی مانگ میں اضافہ ہو گیا۔شہر میں مرغی اور گائے و بکرے کے گوشت کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔مرغی فی کلو 293روپے تک جا پہنچی جبکہ گائے کا گوشت 500سے بڑھ کر 600روپے کر دیاگیا۔اسی طرح بکرے کا گوشت 1200روپے کلو تک بھی فروخت کیا جارہا ہے جبکہ شہریوں کے مطابق انتظامیہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوئی ہے اور بھر پور طریقے سے فوٹو سیشن کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔عید الفطر کی خریداری کے حوالے سے بھی شہریوں کو بری طرح لوٹا گیا اور ملبوسات سمیت جوتوں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں 400گنا زائد اضافہ دیکھا گیا۔