سوات (مانند نیوز ڈیسک) احساس پروگرام کے نام پر بے احساسی کامظاہرہ۔تعلیم کے دروازے بند کردئے۔بچوں کو واپس گھر بھیج دیاگیا۔بچوں کی پڑھائی ایک بار پھر تباہی سے دوچار۔نئی نسل کے مستقبل کے ساتھ بڑا کھلواڑ۔احساس پروگرام کی رقم تقسیم کیلئے سکولوں کے بچوں کو گھروں کو واپس بھیج دیاگیا۔اساتذہ اور والدین کچھ کرنے سے قاصر۔محکمہ تعلیم ہمارے بچوں کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچائے۔احساس پروگرام کیلئے کسی متبادل جگہ کا بندوبست کراکر ہمارے بچوں کو پڑھنے دیاجائے۔ والدین۔تفصیلات کے مطابق تحصیل کبل کے مختلف پرائمری سکولوں میں احساس پروگرام کے تحت رقم تقسیم کا سلسلہ شروع کیاگیا جس کیلئے سکول کے بچے گھروں کو واپس بھیج دئے گئے۔رقم تقسیم کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہے گا جس کی وجہ سے بچوں پر سکول کے دروازے بند رہیں گے۔بچوں کو واپس گھروں کو بھیجتے وقت اساتذہ یاس اور ناامیدی کی تصویر بنے نظر آرہے تھے جبکہ والدین میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے بچوں کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔اپنے بچوں کو بڑے بڑے سکولوں اور کالجوں میں پڑھاتے ہیں جبکہ ہمارے بچوں کو کھبی کرونا، کھبی گرمی اور کھبی احساس پروگرام جیسے بہانوں سے تباہی کے دہانے پر لاکھڑاکردیاہے۔ایسی مثال دنیامیں نہیں ملتی کہ پیسوں کی تقسیم کیلئے بچوں پر سکولوں کے دروازے بند کردئے گئے ہوں۔بچے ویسے بھی کرونا کی تباہی کی وجہ سے پڑھائی سے کتراتے ہیں اور اوپر سے ایسے بے بنیاد پروگراموں کے ذریعے بچوں کی پڑھائی کو نشانہ بنایا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر احساس پروگرام کے پیسوں کی تقسیم اتنی ہی ضروری ہے تو اس کیلئے لوکل گورنمنٹ کے دفاتر مختص کئے جائیں اور اگر سکولوں میں ہی تقسیم کرنے ہیں تو بچوں کی چھٹی کے بعدتقسیم کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ انتہائی احمقانہ اور تعلیم دشمنی پر مبنی ہے۔انہوں نے حکومت وقت اور حکام بالا سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ احساس پروگرام کیلئے فوری طور کوئی بھی متبادل انتظام کرکے منتقل کیاجائے اور بچوں کیلئے سکول کھول دئے جائیں بصورت دیگر وہ سخت احتجاج پر مجبور ہوجائیں گے۔