شیرگڑھ (مانند نیوز ڈیسک) بلدیاتی انتخابات کی اہمیت اور افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا جمہوری نظام میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہےحکومت نے جب سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر میں بلدیاتی انتخابات ہںونگے تو اس نے امیدواروں اور عوام کو پریشان کر رکھا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد جس وقت میں ہوا ہے کہ آیا انتخابات مقررہ وقت پر ہںونگے کیونکہ پہلے بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھالیکن پھر بھی امیدواروں میں جوش وخروش ہیں اور مختلف پارٹیوں اور امیدواروں نے سر جوڑ لئے اور کوشش شروع کیا کہ کس طرح مضبوط اور اثرو رسوخ رکھنے والے افراد کو کھڑا کرینگے جس کا پوزیشن واضح ہو تاکہ آسانی سے الیکشن جیت جائےشیرگڑھ ضلع مردان کا ایک اہم یونین کونسل ہے ان میں تین ویلج کونسل ہیں ویلج ون میں خان محمد مشین ، امیر گلاب کلے ، مومن کلے ، لالی کلے ، حاجی مورچہ خان کلے ، اکرم کلے ، ہشنغرو کلے ، حاجی نادر شیر کلے ، فقیر آباد وغیرہ موجود ہیں ویلج ٹو میں برچم بابڑہ ، بابا جی محلہ ، شیرگڑھ بازار ، غلام حبیب بانڈہ ، ربنواز بانڈہ ، گل تاب بانڈہ ، نور قادر بانڈہ ، شریف آباد وغیرہ شامل ہیں ویلج تھری سیرئ محلہ ، بازار ، مدینہ کالونی ، سیدکریم بانڈہ ، کمرگئ ، ملک قاسم خان بانڈہ وھاب گل بانڈہ محمد آباد ، شیرین باچا کورونہ ، مناف بانڈہ ، شیخانو کلے ، رضا خان کلے ، خٹکو کلے وغیرہ پر مشتمل ہیں یونین کونسل شیرگڑھ میں مختلف پارٹیاں مدمقابل ہونگے لیکن جمیعت علمائے اسلام کے رہنما اور سابقہ ایم این اے مہتمم دارالعلوم اسلامیہ عربیہ شیرگڑھ مولانا محمد قاسم کا اثرورسوخ سب پر حاوی ہے کیونکہ ان کے عقیدت مند اور مرید بہت زیادہ ہیں اور سابقہ ادوار کے مقابلے میں اس کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے دوسری جانب مسلم لیگ ن کے ایم پی اے اور شہید عمران مہمند کا بھائی جمشید خان مہمند بھی اس حلقے میں کافی مضبوط ہے اور اپنے دونوں ادوار میں بہت ترقیاتی کام کئے ۔ تحریک انصاف کے موجودہ وفاقی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کے حلقہ نیابت میں بھی یہ یونین کونسل آتا ہے اس حلقے میں عوامی نیشنل پارٹی۔ پاکستان پیپلز پارٹی ، اور جماعت اسلامی کی طاقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتاسابقہ ادوار کے مقابلے میں عوام کے شعور میں بہت اضافہ ہوا ہے عوام اس بار اپنے شعور اور ضمیر کے مطابق اپنے رائے کو استعمال کرنا چاہتے ہیں جہاں تک مانند میڈیا کیلئے میں نے عوام کی رائے معلوم کی اور ایک اوپن سروے کیا اور عوام کی رائے بہت قریب سے دیکھا تو اس مرتبہ ویلج ون میں موجودہ ایم پی اے اور مسلم لیگ ن ضلع مردان کے جنرل سیکرٹری جمشید خان کے حامیوں کا پلڑا بھاری ہیں کیونکہ جمشید خان مہمند ویلج ون کے عوام کا دیرینہ مسلہ حل کیا ہے اور سارے ویلج کونسل کو گیس اور بجلی فراہم کی ہیں تو امید کی جاتی ہے کہ تینوں جنرل سیٹ جیت جائیں گے اور اگر جمیعت کے امیدوار نے کوشش کی تو ایک سیٹ جیت سکتی ہےویلج ٹو میں جمیعت علمائے اسلام کے ضلع امیر اور سابقہ ایم این اے مولانا محمد قاسم مہتمم دارالعلوم اسلامیہ عربیہ شیرگڑھ کی عقیدت مند اس بار بہت پرجوش ہیں اور امکان ہے کہ ویلج ٹو کے سارے تینوں سیٹ جیت جائیں گے کیونکہ ویلج ٹو کے 70 فیصد لوگ مولانا محمد قاسم کو اپنا روحانی پیشوا اور خود کو مرید سمجھتے ہیں باقی تمام حلقے میں بھی مولانا محمد قاسم کے بہت عقیدت مند موجود ہیں اور یہ بھی قبل از امکان نہیں ہںے کہ ویلج ٹو میں دوسرے پارٹی ایک سیٹ نکال سکتا ہے کیونکہ ان میں سابقہ ممبر زر محمد جو کہ بڑا خاندان رکھتا ہیں اگر کوشش کی تو ایک سیٹ جیت کر اپ سٹ کر سکتا ہےویلج تھری میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے اس میں سابقہ ناظم خالد شاہ جو ایک ممتاز سماجی شخصیت ہے اور اپنے سابقہ نظامت میں علاقے کے عوام کی بھرپور خدمت کیلئے مشہور ہے اور علاقے کے اکثر جرگوں میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں اور ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا ہے دوسری جانب علاقے کے اکثر نوجوان انہیں اپنا آئیڈیل سمجتھے ہیں اور رائے عامہ کے مطابق خالد شاہ ایک نفیس اور بااخلاق انسان ہے جنہوں نے ہمیشہ انسانیت کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر ہی علاقے کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے اور عوام کے خوشی اور غمی میں بھرپور شرکت اور خدمت کی ہے اور پچھلے دور سے زیادہ اس پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور بہت آسانی سے جنرل سیٹ بڑے مارجن سے جیت سکتی ہے باقی دو امیدواروں میں امکان ہے کہ کہ ایک سیٹ جمیعت علماء اسلام اور دوسرا مسلم لیگ ن جیت سکتی ہےامسال زیادہ تر نوجوان ووٹ کے حقدار بن چکے ہیں اور نوجوانوں کی ووٹ سے کایا پلٹ سکتا ہے نوجوانوں کی فلاح وبہبود کیلئے جو امیدوار منصوبہ بندی کر یگا نوجوان اس کی طرف مائل ہو جائیں گےسروے میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ عوام ایک ایماندار اور شریف قیادت کو منتخب چاہتے ہیں جس کے منتخب ہونے کے بعد وہ اپنے علاقے کی حالت کو مزید اچھائی کی طرف گامزن دیکھنا چاہتے ہیں وہ کسی ایسے امیدوار کو منتخب نہیں کرنا چاہتے ہیں جس کے منتخب ہونے کے بعد عوام مزید مسائل سے دوچار ہو جائےمیرا کام صرف حقائق کو آپ کے سامنے رکھنا ہیں باقی فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہیں ۔