اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں قبضہ گروپ کام کرتے ہیں کیونکہ یہاں پر زمین کی قیمت بہت تیزی سے بڑھتی جارہی ہے، میں نے آئی جی پولیس سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے یہاں پر قبضہ گروپ کم نہیں ہورہے تو پتا چلا کہ وہ قبضہ گروپ کو پکڑتے ہیں اور وہ عدالت میں جاتے ہیں وہاں سے ان کی ضمانت ہو جاتی ہے اور وہ پھر باہر آجاتے ہیں، کسی کو خوف ہی نہیں ہے کیونکہ اس میں پیسہ اتنا زیادہ ہے اور سزا اتنی کم ہے، اس لئے قبضہ گروپ چاروں طرف آپریٹ کرتے ہیں تو اس کے اوپر ہم اب ایک نیا قانون لے کر آرہے ہیں۔جب ہماری حکومت آئی تو وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے) چار سے پانچ ارب روپے کا خسارہ کررہا تھا تاہم اب سی ڈی اے کے اکاؤنٹ میں 36ارب روپے پڑے ہوئے ہیں جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے سی ڈی اے چیئرمین عامر احمد علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کو زیادہ پبلک نہ کردینا کہ سب کی سی ڈی اے 36ارب روپے کے اوپر نظر پڑجائے گی۔ان خیالات کااظہار وزیراعظم عمران خان نے بدھ کے روز اسلام آباد میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کی سی ڈی اے نے بڑی اہم سڑکوں کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں ایک مسئلہ کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ کتنا بڑا مسئلہ سامنے آنے والا ہے اور اس حوالے سے لوگ احساس نہیں کررہے۔ 1960سے لے کر2010تک اسلام آباد میں جتنی گروتھ ہوئی تھی اتنی گروتھ 2010سے2020تک ہوئی یعنی جس تیزی سے اسلام آباد بڑھ رہا ہے اگر ہم نے یہ تبدیلیاں نہ کیں تو اسلام آباد میں لوگوں کے لئے ٹریفک اور ماحولیات کے مسائل آئیں گے، ہمارے گرین ایریاز غائب ہوتے جارہے ہیں کیونکہ اتنی تیزی سے شہری ترقی ہوئی اس کے اثرات ہیں اور ابھی سے آگے کی منصوبہ بندی کرنا پڑے گی،سی ڈی اے کی جانب سے بنائی جانے والی تین سڑکیں اسلام آباد میں آنے والے ٹریفک کے مسائل کے حل میں مدد کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ آگے بھی بڑے مسئلے ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے اسلام آباد میں گرین کور کم ہوتا جارہا ہے اور 20سال میں جتنے درخت کم ہوئے ہیں اور کنسٹرکشن پھیلتی جارہی ہے، پہلے تو جو پرانا ماسٹر پلان تھا وہ بالکل متروک ہوچکا ہے،اس وقت نیا ماسٹر پلان لے کر آنا ہے اوراسلام آباد کے ماسٹر پلان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور جو گرین ایریاز ہیں ان کو ابھی سے بچانے کی کوشش کریں اور پھر جو سی ڈی اے کے خالی علاقے ہیں ان سب پرجنگلات لگائیں۔ اسلام آباد میں لندن جتنی بارش ہوتی ہے اور اس کا لوگوں کو اندازہ نہیں ہے اور تقریباً40انچ بارش ہوتی ہے، یہ علیحدہ بات ہے کہ لندن میں سارا سال پھیل کرآتی ہے اور ہمارے زیادہ برسات کے موسم میں آتی ہے۔ ابھی بارشیں ہورہی ہیں اور ہم پورے پاکستان میں درخت اگارہے ہیں اور اسلام آباد کی مثال بننی چاہئے کیونکہ اسلام آباد  میں درخت سب سے آسا نی سے اگتے ہیں،یہ صرف مسئلہ اسلام آباد کا نہیں، پاکستان وہ ملک ہے جو دنیا میں تیزی کے ساتھ شہری آبادی میں تبدیل ہورہا ہے، لاہور بھی20سالوں کے اندرڈیڑھ گنا بڑھ چکا ہے اور اس کی وجہ سے لاہور میں ماحولیاتی آلودگی کے مسائل ہیں اور سردیوں میں لاہور میں ماحولیاتی آلودگی کی سطح خطرے کی سطح سے بھی کہیں اوپر چلی جاتی ہے اور اس کے اثرات بچوں اور بوڑھوں کے اوپر زیادہ ہیں۔ اب ہم لاہور کو بھی صاف کرنے کی پوری مہم چلارہے ہیں، اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا، میاواکی کے جنگلات لاہور اور اسلام آباد میں اگائے جارہے ہیں یہ تیزی سے بڑھتے ہیں اور آکسیجن بھی زیادہ دیتے ہیں۔ پشاور میں بھی تیزی سے شہری آبادی میں اضافہ ہوا ہے اور وہاں بھی یہ مسئلے آرہے ہیں اور پشاور کو بڑی تیزی سے گرین کیا جارہا ہے۔ اصل میں جو مقابلہ ہے وہ اسلام آباد اور پشاور کا ہے کیونکہ پشاور میں بہت تیزی سے اپنا شہر بدلا ہے اور پنے علاقے کو محفوظ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں جو پارکس ہیں ان کو بھی بچائیں اور مزید پارکس بنانے کی کوشش کریں تاکہ لوگوں کے لئے شام کو باہر جانے کے لئے جگہ ہو۔ تقریب سے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی خطاب کیا جبکہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات فواد چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ 

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے