واشنگٹن (مانند نیوز ڈیسک) امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ کابل میں ہونے والے ڈرون حملے پر کسی بھی ذمہ دار امریکی فوجی یا عہدیدار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ترجمان پینٹاگون جان کربی نے کہا کہ وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کو کابل کابل ڈرون حملے سے متعلق رپورٹ ملی جس میں احتساب کی تجویز نہیں تھی۔جان کربی نے کہاکہ جو کچھ ہوا وہ عمل درآمد میں کوتاہی تھی، غفلت، بے انتظامی اور ناقص قیادت نہیں تھی، وزیر دفاع نے کابل حملے سے متعلق رپورٹ میں دی گئی تجاویز کی منظوری دیدی ہے، وزیر دفاع نے مزید احتسابی عمل کے لیے ہدایات نہیں دیں۔ پینٹاگون کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق محکمے کی اندرونی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں ڈرون حملہ قانون کے خلاف نہیں تھا اورنہ ہی ڈرون حملہ اصول کی خلاف ورزی تھا اس لئے کوئی امریکی فوجی یا حکام سزا کے حقدار نہیں۔یاد رہے کہ 29اگست کو امریکی ڈرون حملے میں 7بچوں سمیت 10معصوم افغان شہری مارے گئے تھے۔امریکی حکام کی جانب سے پہلے کہا گیا تھا کہ کابل میں ڈرون حملہ شدت پسندوں کا گڑھ سمجھ کر کیا گیا تھا، ابتدائی رپورٹ کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل مکینزی نے معافی بھی مانگی تھی۔امریکی ائیر فورس کے انسپکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل سمیع ڈرون حملے کو افسوسناک اور صریحا غلطی قرار دے چکے ہیں۔