ملاکنڈ(نمائندہ مانند)جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی آمیرسینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کا معاشی نظام سودی بنیادوں پر قائم ہے جو کہ مسائل کی اصل جڑ ہے۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آکر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں کی بجائے اسلامی زکواۃ کے ذریعے ملک چلائینگے۔ معمر مرد و خواتین کے لئے خصوصی وظیفہ مقرر کرکے نوجوانوں کو بیروزگاری الاؤنس دینگے اور بنجر اراضی کو آبادبناکر گرین پاکستان بنائینگے اور ساتھ ہی بے گھرلوگوں میں تقسیم کرینگے۔ ہمارے حکومت میںh ہر جج کے ہاتھ میں انگریزی کتاب کی بجائے قرآن پاک ہوگا اور فیصلے شرعی قوانین کی روشنی میں ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دارلعلوم تعلیم القرآن سخاکوٹ میں ختم بخاری شریف کے موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع سے صوبائی آمیر سینیٹر مشتاق احمد خان، ضلعی آمیر مولانا جمال الدین، شیخ القرآن مولانا نور احمد دین، شیخ الحدیث مولانا فضل قیوم اور مولانا محمد طاہر سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ پاکستان میں کروڑوں مسلمانوں کے باوجود یہاں انگریزی نظام رائج ہونا قابل افسوس ہے اس لئے مسلمانوں کے لئے ایک اسلامی نظام کا ہونا اہم ترین تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کے فروخت میں حکومت اور اپوزیشن دونوں برابر کے شریک ہیں کیونکہ سینٹ میں قانون سازی کے عین وقت پر اپوزیشن کے ممبران سینٹ غائب ہو گئے تھے اور حکومت کو صرف ایک ووٹ سے بل پاس کرانے میں کامیابی ملی ہے جس سے ثابت ہو گیا ہے کہ پی پی پی اور مسلم لیگ سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں اور حکومت نے مشترکہ طور پر سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے حوالہ کیا ہے جس کے ذریعے ملک کا سارامعاشی نظام باطل قوتوں اور آئی ایم ایف کے ہاتھوں میں دیا گیا ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ پانامہ کیس کے سلسلے میں ایک سو گیارہ دفعہ سپریم کورٹ گیاہوں لیکن اس دوران کسی ایک جج یا وکیل نے اغاز کلمے سے نہیں کیا اس لئے جب ہماری حکومت آئی گی تو عدالتوں میں فیصلے انگریزی قوانین نہیں بلکہ شرعی قوانین پرہونگے اور جج اور وکیل کے ہاتھ میں انگریزی کتاب کی بجائے قرآن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسلامی قوانین پر فیصلے اور عمل در آمد کرانے کے لئے ہمارے پاس بہترین جج موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور مغرب کے ایماء پر مسلمانوں کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہی لیکن مسلمانوں کے مسلکی بنیادوں پر تقسیم کو بدعت کبرا تصور کرتی ہے اور اس بدعت کبرا کے خاتمے کے لئے کوششوں میں مصروف عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے دور حکومت میں میں نے بحیثیت وزیر خزانہ سودی نظام پر پابندی لگائی تھیj اور نواز شریف سے سوشل میڈیا پر اخلاق سوز مواد اور سودی نظام پر پابندی کا عہد لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اسلامی انقلاب کا ہے جس میں اسلامی نظام عدل، اسلامی نظام تعلیم اور اسلامی معاشی نظام قائم کرنے کیساتھ ساتھ ملک سے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی اجارہ داری ختم کی جائیگی اور ستر سال کے مر د و خواتین کو وظیفہ دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی نظام قائم ہو گی تو نوجوانوں کو حلال روزگار شروع کرنے کے لئے قرضے دئیے جائینگے اور سرکاری بنجر اراضی کو قابل کاشت بنا کر بے گھر خاندانوں میں تقسیم کرینگے۔ اس موقع پرختم بخاری شریف تقریب اور میڈیا سے خطاب کے دوران صوبائی آمیر مشتاق احمد خان نے کہا کہ سٹیٹ فروخت کرنے میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی سہولت کاروں کا کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کے تمام معاملات پاکستان کے ہاتھوں سے نکل گئے ہیں اور سٹیٹ بینک کا گورنر وائسرئے بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک سے متعلق بلز پر سینٹ میں ووٹنگ کے دوران اپوزیشن ممبران کی غیر موجودگی کا پی پی پی او ر مسلم لیگ ن سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں نوٹس لیں کیونکہ عین گنتی کے وقت سینٹ سے غیر حاضری در اصل اپوزیشن اور حکومتی جماعت کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے اور اپوزیشن جماعتیں حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنشنل رپورٹ نے حکومتی کارکردگی اور کرداد کو پول کھول دیا ہے کیونکہ رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت کرپشن کنٹرول کرنے کی بجائے کرپشن میں مذید اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملم جبہ سکینڈل، بلین ٹری سونامی پراجیکٹ، بی آر ٹی اور دوسرے میگا پراجیکٹس میں کسی قسم کی تحقیقات نہیں ہوئے جس کی وجہ سے نہ صرف کے اندر مایوسی پھیلی ہے بلکہ پورے دنیا میں ملک کی بدنامی اور جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کیساتھ کئے گئے وعدوں اور تمام شعبوں میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اس لئے انہیں اقتدار سے چمٹے رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔