اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے سودی نظام معیشت کے خاتمے کے فیصلے کوخو آئند قراردیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پانچ سال کا انتظار نہ کرے اورجتنا جلد ازجلد ہو سکے تمام سودی نظام کو اسلامی شریعت کے مطابق بنانے کا فیصلہ کرے، حکومت سے بھی توقع رکھتے ہیں وہ سابق وفاقی حکومت کی طرح حیلے بہانے اختیار نہیں کرے گی، اگر ہم نے محسوس کیا کہ حکومت اس فیصلے کے راستہ میں کوئی روڑہ، کوئی مشکل، کوئی اسپیڈ بریکر لارہی ہے تو ہمارا ہاتھ ہو گا اوراس حکومت کا گریبان ہوگا۔ پوری قوم آج جمعۃ الوداع کو یوم تشکر منائے کیونکہ سودی نظام کے خلاف فیصلہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔ان خیالات کااظہار سراج الحق نے وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے سودی نظام کے خلاف کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امراء جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ،پروفیسر محمد ابراہیم خان، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، میاں محمد اسلم، نصراللہ رندھاوا،جماعت اسلامی کے وکلا قیصرامام اورسیف اللہ گوندل دیگر رہنما ؤں کے ہمرا موجود تھے۔ سراج الحق نے کہا کہ آج تاریخی دن ہے پوری قوم کواس فیصلے پر مبارکباد دیتا ہوں وفاقی شرعی عدالت نے تفصیلی فیصلہ دیا ہے جس میں شرعی عدالت نے اللہ کے قانون اور آئین پاکستان کے مطابق سود کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ میں پاکستان کی حکومت کو پابند کیا کہ آئندہ پانچ سالوں میں تمام معاشی قوانین اورقوانین کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق بنا دے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا دن اس لحاظ سے بھی تاریخی دن ہے کہ 27ویں رمضان کواللہ تعالیٰ نے اس خطہ کے عوام کو انگریز سے آزادی دی اور پاکستان بنا تھا،آج ایک بار پھر اس تاریخی موقع پر پاکستان کے عوام کو ایک اور کامیابی دی اور وفاقی شرعی عدالت نے سود پر پابندی لگا دی جو پہلے سے آئین کا تقاضا تھا۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ میں اس لمحہ میں ان تمام مفتی حضرات، علماء کرام،وکلاء اور پاکستان کے شہریوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے وفاقی شرعی عدالت کے اس کیس میں رہنمائی بھی، دلچسپی بھی لی اور مسلسل اس کیس کو لڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری قوم جانتی ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے 1991میں بھی پاکستان میں سودی نظام پر پابندی کا فیصلہ دیا تھا لیکن اس وقت کی وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کی طرف جانے کا فیصلہ کیا تھا، وفاقی حکومت سپریم کورٹ گئی اور اس وقت کے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر حکم امتناع لیا اور سپریم کورٹ نے دوبارہ نظرثانی کے لئے کیس وفاقی شرعی عدالت کو بھیجا تھا۔سراج الحق نے کہاکہ آج چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت نور محمد مسکانزئی، جسٹس خادم حسین شیخ اور جسٹس ڈاکٹرسید محمد انورشاہ نے سود کے خلاف ایک متفقہ فیصلہ دیا ہے۔ اگرچہ اس فیصلہ میں حکومت کو تمام قوانین تبدیل کرنے کے لئے اور شریعت کے مطابق بنانے کے لئے پانچ سال دیئے ہیں اوریہ ایک بہت بڑا عرصہ ہے، ہم چاہیں گے کہ حکومت پانچ سال کا انتظار نہ کرے اورجتنا جلد ازجلد ہو سکے تمام سودی نظام کو اسلامی شریعت کے مطابق بنانے کا فیصلہ کرے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ ہماری قوم جانتی ہے کہ 2013-18تک پاکستان پر بیرونی سودی قرضہ 24ارب ڈالر واجب الادا تھا اور گزشتہ پانچ سالوں میں ہماری وفاقی حکومت نے پانچ ارب 30کروڑ ڈالرز کا سودی قرضہ لیا ہے۔ لہذا ہم حکومت سے اب چاہیں گے کہ ملک کے اندر اور ملک سے باہر جتنے بھی معاہدے ہیں وہ پاکستان کے اس قانون کے مطابق ہو جو اللہ کا قانون ہے اور پاکستان کے آئین کا تقاضہ ہے کہ رباہ کے تحت کوئی نظام مزید نہیں چلے گا، ہم عید کے بعد اپنے سینئر وکلاء، مفتی حضرات اوراسلامی معیشت کے ماہرین کو دوبارہ بلا رہے ہیں، ان سے دوبارہ مشاورت کریں گے کہ پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلہ پر جلد ازجلد نافذ کرنے کے لئے ہم حکومت کو خود ایک میکنرم دیں، ہم حکومت سے بھی توقع رکھتے ہیں وہ سابق وفاقی حکومت کی طرح حیلے بہانے اختیار نہیں کرے گی، اگر ہم محسوس کرتے ہیں کہ حکومت اس فیصلے کے راستہ میں کوئی روڑہ کوئی مشکل، کوئی اسپیڈ بریکر لاتی ہے تو ہمارا ہاتھ ہو گا اوراس حکومت کا گریبان ہوگا۔ ان کا کہنا تھا مجھے افسوس ہے کہ گزشتہ حکومت جس نے مدینہ کی اسلامی ریاست بنانے کا اعلان کیا تھا اس نے سودی نظام کے خاتمہ کے لئے کچھ نہیں کر سکی، اس سے پہلے بھی مسلم لیگ کی حکومت اس فیصلے خلاف سپریم کورٹ گئی تھی۔ پی ٹی آئی کی حکومت ہو یا مسلم لیگ کی حکومت ہو دونوں نے اس فیصلہ پر عملدرآمد کرنے کی بجائے لیت ولعل سے کام لیا لیکن اب عوام بیدار ہو گئے ہیں، آج جمعۃ الوداع کو ہم کو پوری قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ یوم تشکر منائیں یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ماضی میں جنہوں نے اسلامی بینکاری کی طرف پیش قدمی کی ہے اوراس وقت بھی ہمارا تقریباً20فیصد بینکاری کا نظام اسلامی بینکاری کے تحت ہے، اب یہ اسلامی بینکاری دنیا کا مقبول نظام بن گیا ہے، اسٹیٹ بینک سے بھی ہم کہیں گے کہ وہ اس فیصلہ کو پوری اسپرٹ کے ساتھ اپنانے کی کوشش کرے۔ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرتے ہیں کہ پوری قوم سودی نظام کے خاتمہ کے لئے پُرعزم ہے، آج میرے دائیں بائیں جتنے بھی قائدین کھڑے ہیں، بزرگ کھڑے ہیں، وکلاء کھڑے ہیں ان کے تعاون سے یہ سب کچھ ممکن ہوا،ہم پوری طرح اس فیصلہ پر عملدرآمد کے لئے پہرہ دیں گے اور ہم پوری طرح پُرعزم ہیں اور ہم عید کے بعد ہم اس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے اپنے تمام دوستوں اور اسٹیک ہولڈرز، وکلاء کو اپنی ساتھ تنظیموں کو بلائیں گے اور حکومت ہر طریقہ سے مجبور کریں گے، اس کے لئے ہمیں سڑکوں پر آنا پڑا توآئیں گے اوراس کے لئے ہر راستہ اختیار کریں گے لیکن سودی نظام اور پاکستان مزید ساتھ، ساتھ نہیں چل سکتے، یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ ہے اور کوئی قوم اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس وقت وفاقی حکومت کا امتحان ہے کہ وہ کتنا جلد ازجلد اس فیصلہ کو عملی جامہ پہنائے۔ میرے وکلاء نے کہا کہ حکومت کو عدالت نے پانچ سال کا بہت بڑا عرصہ دیا اور اگر حکومت مخلص ہو تو پانچ، چھ مہینوں میں یہ کام کر سکتی ہے لیکن ہم حکومت کو مجبور کریں گے کہ کم ازکم وقت میں تمام غیر اسلامی قوانین کو ختم کرکے اسلامی بینکاری کا ایک انتہائی ترقی یافتہ، ماڈرن اور جدید زمانے سے ہم آہنگ نظام اور اللہ اور رسول کا نظام اس ملک میں نافذ کرے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ماضی میں جو معاہدے ہوئے ہیں وہ غلط ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ جتنے بھی معاہدے ہوئے ہیں ان پر نظرثانی کی جائے، وہ معاہدہ نہیں ہے وہ تو غلامی کا ایک طوق ہے جو ہمارے گلے میں ڈالا گیااس کو ہم ہمیشہ سے مسترد کرتے ہیں، قوم جانتی ہے کہ یہ 22واں پروگرام ہے جو حکومت آئی ایم ایف سے لے رہی ہے،22بار پروگرام لے کر 22بار غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال کر بھی ہم ترقی نہیں کر سکے اس لئے آئی ایم ایف کے ساتھ غلامی کے ان معاہدوں کو ہم مستردکرتے ہیں اور پوری قوم مسترد کرتی ہے۔ اس موقع پر تنظیم اسلامی کے سربراہ شجاع الدین شیخ کا کہناتھا کہ شرعی عدالت کے اس فیصلے کے پیچھے پوری قوم کو کھڑے ہونا ہوگا تاکہ اس پر من و عن عمل کروایا جاسکے، نائب امیرجماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہاکہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے ایک روڈ میپ دے تاکہ قوم مطمئن ہوسکے کہ حکومت اس فیصلے پر عملدرآمد میں سنجیدہ ہے، ڈاکٹر فرید پراچہ نے کہاکہ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ پارلیمنٹ اور اسمبلی سمیت عدالت کو ہر سال پیش رفت کی رپورٹ بھی فراہم کی جائے اور جماعت اسلامی کے وکیل قیصر امام نے کہا کہ سود کے مسئلے کے حوالے سے حکومتوں کا ایک خاص رویہ رہا، انہوں نے کہاکہ وفاقی شرعی عدالت نے سود کے حوالے سے آئین کی شق کو مزید واضح کیا ہے کہ اگر آئین رہتا ہے تو رباہ نہیں رہ سکتا۔