لاہور (مانند نیوز ڈیسک) سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار علی ملک نے سری لنکا میں شدید غذائی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لوگوں کو موت کا شکار ہونے سے بچانے کے انتظامات کرے۔جمعرات کو یہاں مومن علی ملک کی قیادت میں تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خوراک پہلے ہی گزشتہ ماہ کی نسبت 90 فیصد سے زیادہ مہنگی ہو چکی ہے اور 22 ملین کی آبادی میں سے تقریباً 6.7 ملین سری لنکن باشندوں کو عالمی غذائی پروگرام کے پیرامیٹرز کے مطابق ضروریات زندگی کے لئے خوراک تک رسائی نہیں ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر عالمی عطیہ دہندگان کی جانب سے ان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فوری طور پر توجہ نہ دی گئی تو صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ دوسری تکلیف بات یہ ہے کہ سری لنکا میں چاول کی فصل کی پیداوار بالکل اچھی نہیں ہوئی جس سے وہاں صورتحال مذید سنگین ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھادوں کی عدم دستیابی وہاں دھان کی انتہائی کم پیداوار کی بڑی وجہ ہے جس نے لگاتار دوسرے سیزن میں چاول کی کاشت کے علاقوں کو بری طرح متاثر کیا اور کچھ جگہ پر فصلیں کٹائی کے قابل ہی نہیں ہیں جس سے ان کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاول سری لنکا کی 22 ملین آبادی کی بنیادی خوراک اور ملککی سب سے بڑی فصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوریا و دیگر کھادوں اور ایندھن کی عدم دستیابی کی وجہ سے کسان اگلی فصل کاشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ روس یوکرین جنگ کی وجہ سے زرمبادلہ کی کمی نے ایندھن، گیس، ادویات اور خوراک سمیت اشیائے ضروریہ کی درآمد کو بھی بہت محدود کر دیا ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام بین الاقوامی تنظیمیں اور ممالک متحرک ہو کر سری لنکا کو غذائی بحران سے بچائیں۔ انہوں نے خاص طور پر سپر پاورز پر زور دیا کہ وہ سری لنکا کے لوگوں کی بھر پور مدد کریں۔ وفد کے رہنما مومن علی ملک، جو چاول کے ترقی پسند کاشتکار ہیں، نے سارک چیمبر کے پلیٹ فارم سے امدادی سامان سری لنکا بھیجنے کے لیے وسائل کو متحرک کرنے کا اعلان کیا۔ افتخار علی ملک نے ان کے جذبے کو سراہا اور پاکستان کی تاجر برادری سے بھی اس کار خیر میں مومن علی ملک کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔